جامعۃ المصطفی العالمیہ میںمنعقد ہونے والے بين الاقوامی قرآن وحديث مقابلوں میں شركت كرنے والے يوگنڈا كےطالب علم نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" سے گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ انجيل میں بہت زيادہ غلطياں ہیں اور اس كی وجہ یہ ہے كہ اسے لوگوں نے تحرير كياہے اور موجودہ انجيل كتاب خدا نہیں ہے۔ اس نےمزيد كہاكہ یہ مقدس كتاب تثليث كی قائل ہے اور تثليث كا عقيدہ درست نہیں ہے۔ يوگنڈا سےتعلق ركھنے والا یہ طالب علم دنيا كی آٹھ زبانیں بول سكتا ہے۔ اس نے اسلام قبول كرنے كی داستان بيان كرتے ہوئے كہا كہ اپنے خاندان میں تن تنہا مسلمان ہوں باقی سب كيتھولك مذہب كے ماننے والے ہیں میں نے اپنے دوست كے ذريعے اسلام قبول كيا ہے۔ اس نے وہابيت كے بارے میں گفتگو كرتےہوئے كہا كہ ميرا وہابيوں سے زيادہ واسطہ پڑا ہے میں اتنا جانتا ہوں كہ جن چيزوں كو وہ حرام و حلال كہتے ہیں وہ بغير دليل كے ہے اور وہ شيعوں كے كفر كا فتوی بھی بغير دليل كے ديتے ہیں جبكہ شيعہ علی ابن طالب كے پيروكار ہیں۔ انھوں نے جامعۃ الصطفی العالمیہ كی طرف سے قرآن وحديث مقابلوں كی تعريف كرتےہوئے كہا كہ ان مقابلوں كے ذريعے مسلمان طلباء ايك دوسرے سے آشنا ہوئے اور وحدت كا عملی مظاہرہ ہوا۔ اس نے كہا كہ وہابيوں نے پيسے ، گاڑی اور گھر كا لالچ دے كر مجھے تبليغ كرنے كی دعوت دی چونكہ مجھے ان كے عقيدے سے اختلاف ہے اس لیے قبول نہیں كيا ياد رہے كہ يوگنڈا كی آبادی ۳۰ ملين ھے جن میں سے ۴۵ فيصد مسلمان ہیں جن كی اكثريت اہل سنت ہے۔
376023