IQNA

سياسی گروپ: قائد انقلاب اسلامی نے تركی كے صدر سے ملاقات كے دوران علاقے كی سياسی صورت حال پر تبادلہ خيال كرتےہوئے كہا كہ افغانستان اور عراق كےمسئلے پر امريكہ بہت سے اشتباہات كا مرتكب ہوا ہے اور امريكہ كی موجودہ حكومت بھی غزہ كے مسئلے میں غلط پاليسياں وضع كر رہی ہے۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق ۱۱مارچ ۲۰۰۹ء كو قائد انقلاب اسلامی سےتركی صدر عبداللہ گل نے ملاقات كی۔ اس ملاقات میں قائد انقلاب اسلامی نے كہا كہ ايران اور تركی كے دشمن مشترك ہیں اور وہ اسرائيل اور امريكہ ہے ليكن ايران اور تركی كو بھی چاہیے كہ وہ ان كے مقابلے میں مشتركہ پاليسياں وضع كریں۔ آيت اللہ خامنہ ای نےكہاكہ ايران اور تركی كےدرميان تعاون كےمواقع موجود ہیں كيونكہ ايران كی حكومت كا كام جدوجہد ہے اور یہ چيز تركی كی حكومت میں بھی نظر آ رہی ہے۔ انھوں نے مشرق وسطی كے حوالے سے گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ دنيائے اسلام كا سب سے اہم مسئلہ مسئلہ فلسطين ہے اور تركی نےغزہ كے مسئلے میں بڑا اہم كردار ادا كيا ہے۔ اور ڈيووس كے اجلاس میں ترك وزير اعظم كا اقدام بہت اچھا اقدام تھا۔ قائد انقلاب اسلامی نے كہا كہ امريكہ نےمسئلہ عراق اور افغانستان میں بہت اشتباہات كیے ہیں اور غزہ كے مسئلہ پر امريكہ كی موجودہ حكومت كا موقف ايك اور اشتباہ ہے۔ آيت اللہ العظمی علی خامنہ ای نے كہا كہ امريكی حكومت اپنی سابقہ پاليسوں پر گامزن ہے اور اپنی گزشتہ غلطيوں كےجبران كے لیے كچھ نہں كر رہی ہے۔ قائد انقلاب نے كہا كہ دشمن چاہتا ہے كہ وہ اسلامی ممالك اور ايران كے ہاتھوں سےاسلام كا جھنڈا لے لے۔ ليكن اسے اس مقصد میں كاميابی حاصل نہیں ہو گی۔ اس ملاقات میں ايرانی صدر احمدی نژاد بھی موجود تھے۔ تركی كےصدر نے دونوں ممالك كےتعلقات كو علاقے میں نمونہ قرار ديتے ہوئے كہا كہ تركی اسلامی جمہوریہ ايران سےاپنے تعلقات كو مزيد بڑہانا چاہتا ہے۔ تركی كےصدر نے " ايكو" كےاستحكام كی تاكيد كی اور كہا كہ ايران اور تركی شاہراہ ابريشم كی دوبارہ تعمير كر سكتے ہیں۔ تركی كے صدر نے مسئلہ فلسطين كو دنيائے اسلام كا اہم مسئلہ قرار ديا ۔ اور كہا كہ اسلامی ممالك كو چاہیے كہ وہ متحدہ ہو كر مصيب زدہ فلسطينيوں كی مدد كریں اور ان كےحقوق كا دفاع كریں۔
376458