بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" شعبہ اسلامی جمہوریہ افغانستان كی رپورٹ كے مطابق اس نشست میں جو ۱۵ اپريل ۲۰۰۹ء كو بدخشان كے تمام شہروں كے علماء اور نمائندوں كی شركت سے صوبہ كے دارالحكومت فيض آباد میں منعقدہ نشست میں یہ بات زور دے كر كہی گئی كہ حكومت اور لوگوں كے باہمی تعاون سے منشيات كی كاشت كوروكا جائے گا۔ اس صوبہ كے گورنر عبدالمجيد نے علماء اسلام كی اس كاوش كو سراہتے ہوئے كہا كہ یہ كوشش لوگوں كی حمايت كو جلب اور ملك میں بدامنی كو ختم كرنے كے لیے بہترين اقدام شمار ہو گا۔ صوبہ كے گورنر نے اس كاوش كو جہادی حركت كا نام ديتے ہوئےكہا كہ ہمیں ايسے علماء كے وجود پر جو ملك اور لوگوں كی مشكلات كو ختم كرنےكے لیے خدمت میں مشغول ہیں، افتخار كرنا چاہیے۔ اس نشست كے آخر میں سات نكاتی قرارداد بھی پاس ہوئی جس میں منشيات كی كاشت كو حرام قرار ديا گيا۔ ياد رہے كہ صوبہ بدخشان گزشتہ نزديك میں منشيات كی كاشت میں افغانستان كا دوسرا بڑا شہر شمار ہوتا ہے۔ ليكن فی الحال چين كے اس ہمسایہ شہر نے منشيات كی كاشت كو بالكل ختم كر ديا ہے۔
388990