ترك سياست دانوں كی طرف سے مصر كے حزب اللہ پر الزامات كی مذمت

IQNA

ترك سياست دانوں كی طرف سے مصر كے حزب اللہ پر الزامات كی مذمت

سياسی وسماجی گروپ: تركی كے بعض سياست دانوں اور نامہ نگاروں نے مصر كی طرف سے حزب اللہ لبنان پرعائد كردہ الزامات كی مذمت كی ہے۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے " اخبار العالم" سائٹ كے حوالے سے رپورٹ دی ہے كہ تركی كے سياست دانوں اور نامہ نگاروں نے كہا كہ حزب اللہ لبنان نے حكومت مصر سے صرف یہ اپيل كی تھی كہ وہ اس بات كی اجازت دے كہ دوسرے ممالك فلسطين كے جہاد میں شريك ہو سكیں۔ انھوں نے كہا كہ حزب اللہ كی طرف سے یہ درخواست اور مظلوم فلسطينيوں كی حمايت اور اس كی ديگركوششیں قابل قدر اقدامات ہیں۔ انقرہ میں مسجد " الحميدیہ" كے خطيب بلال گولماز نے كہا ہے كہ مصر ايك اسلامی ملك ہے۔ توقع كی جا رہی تھی كہ وہ مظلوم فلسطينيوں كے دفاع كے لیے كوششیں كرے گا ليكن مصر كے حكمران غزہ كی راہداريوں كو كھولنے كی بجائے دشمن كی حمايت كر رہے ہیں۔ گولماز نے مزيد كہا كہ حزب اللہ كی طرف سے غزہ فلسطينی جہاد كی حمايت قابل ستائش اقدام ہے اور دوسرے اسلامی اورعربی ممالك كو بھی اس كی حمايت كرنا چاہیے۔ تركی كے نامہ نگار سرگان شنز نے كہا ہے كہ میں تركی كے شہری كے عنوان سے مصر كے صدر " حسنی مبارك" سے پوچھتا ہوں كہ اگر آپ مظلوم فلسطينيوں كی حمايت نہیں كرتے تو جو حمايت كرتے ہیں انھیں كيوں روكتے ہو۔
390520