مسلمانوں كی پسماندگی كے اسباب پرغوروفكر ہونا چاہیے: آيت اللہ العظمی نوری ہمدانی

IQNA

مسلمانوں كی پسماندگی كے اسباب پرغوروفكر ہونا چاہیے: آيت اللہ العظمی نوری ہمدانی

اعزازی گروپ/ مريم كيانی بيدگلی: مسلمان گزشتہ ادوار میں طاقت اور عظمت كے مالك تھے اور دنيا میں اسلامی ثقافت و تہذيب كے بانی تھے۔ اس وقت مسلمان كيوں پسماندگی كا شكار ہیں۔ اس كے اسباب پر غوروفكر كرنا چاہیے۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی 'ايكنا" كے اعزازی نامہ نگار كی رپورٹ كے مطابق تركی كے سابق وزير اعظم " نجم الدين اربكان" نے گزشتہ روز قم میں آيت اللہ العظمی نوری ہمدانی سے ملاقات كی۔ اس ملاقات میں آيت اللہ العظمی نوری ہمدانی نے نجم الدين اربكان سے كہا كہ تركی اسلامی افكار كے لحاظ سے امتيازی حيثيت ركھتا ہے اور تركی كے ايران كے ساتھ زمانہ قديم سے بڑے اچھے تعلقات استوار ہیں۔ انھوں نے مزيد كہا كہ مسلمانوں كی طاقت ، ايمان اور اسلامی اقدار كی پابندی میں ہے۔ انھوں نے كہا كہ مسلمانوں كی قدرت اور طاقت كا دوسرا عامل اتحاد و وحدت ہے۔ جب تك مسلمانوں میں اتحاد تھا وہ بہت عظمت كے مالك تھے ليكن دشمن نے مسلمانوں كے درميان اختلافات ايجاد كر كے مسلمانوں كی وحدت كو پارہ پارہ كر ديا ہے۔ انھوں نے كہا كہ مسلمانوں كو كفار كے تسلط كو قبول نہیں كرنا چاہیے۔ ليكن افسوسناك امر یہ ہے كہ بعض اسلامی ممالك كفار كے تسلط كو قبول كرتے ہیں۔ آيت اللہ العظمی نوری ہمدانی نے جہاد كو مسلمانوں كے لیے عزت قرار ديا۔
390449