بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا'' كی رپورٹ كے مطابق آيت اللہ مقتدائی نے تركی كے سابق وزير اعظم نجم الدين اربكان سے ملاقات میں گفتگو كرتے ہوئے كہا حوزہ علمیہ قم دنيائے تشيع كا علمی مركز ہے۔ ااور اہل تشيع مراجع عظام كے رسالہ عملیہ كو خدا سے رابطے كا وسيلہ سمجھتے ہیں۔ انھوں نے تركی كے سابق وزير اعظم سے گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ حوزہ علمیہ قم میں بہت زيادہ تحقيقاتی مراكز موجود ہیں اور اس حوزہ علمیہ قم سے ہزاروں كی تعداد میں علماء كرام اور مبلغين تبليغ كے لیے ملك اور بيرون ملك جاتے ہیں۔ انھوں نے كہا كہ امام خمينی (رح) اور قائد انقلاب اسلامی سيد علی خامنہ ای نے بھی اسی حوزہ علمیہ قم سے تربيت حاصل كی ہے۔ انھوں نے كہا كہ اسلامی جمہوریہ ايران كا نظام سورج كی طرح دنيا كے افق پر جگمگا رہا ہے۔ آيت اللہ مقتدائی نے كہا كہ شيعہ اہل بيت (ع) كے پيروكار اور ان سے محبت كرنے والے ہیں۔ اور اہل سنت بھی زيادہ تر اہل بيت (ع) سے محبت كرتے ہیں۔ اسلام میں شيعہ اور سنی كے درميان فرق نہیں ہے كيونكہ سب اہل بيت (ع) سے عقيدت ركھتےہیں ۔ انھوں نے كہا كہ امام خمينی (رح) وحدت كی بہت زيادہ تاكيد كرتے تھے اور مسلمانوں كو چاہیے كہ وہ امت واحد بن كر دشمن كے مقابلے میں اٹھ كھڑے ہوں۔ انھوں نے كہا كہ اسرائيل كے بارے میں ايران اور تركی كا مؤقف ايك ہے۔ اور تركی اور ايران كے تعلقات بڑے خوشگوار ہیں اور نجم الدين اربكان كی حكومت كے زمانے میں ان تعلقات میں اضافہ ہوا تھا۔
390524