بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق ايران كے چيف جسٹس آيت اللہ سيد محمود ہاشمی شاہرودی نے تركی كے سابق وزير اعظم سےملاقات كے دوران اسلامی ممالك كے درميان اتحاد و وحدت كو وقت كی اہم ضرورت قرار ديتے ہوئے كہا كہ اسلامی ممالك كو آپس میں اتحاد و وحدت كے لیے سنجيدگی سے كام كرنا چاہیے۔ انھوں نے كہا كہ مسئلہ فلسطين اور اسرائيلی جارحيت كے بارے میں تركی كی مسلمان ملت كا مؤقف بہت اچھا تھا اور مسئلہ فلسطين كےبارے میں تركی كی موجودہ حكومت كی بھی پاليسی بہت مناسب ہے۔ ايرانی چيف جسٹس نے كہا كہ ايران اور تركی كا دنيا میں ايك خاص مقام ہے۔ یہ دونوں ممالك مل كر مسلمانوں كی عزت اور سربلندی كے لیے كام كر سكتے ہیں۔ تركی كے سابق وزيراعظم نجم الدين اربكان نے بھی اس ملاقات میں اظہار خيال كرتے ہوئے كہا كہ مسلمانوں كو اسلام سے دور كرنے كی بہت كوششیں كی گئیں اور كی جا رہی ہیں ليكن اب وہ وقت آ پہنچا ہے كہ مسلمان اتحاد و وحدت كے ذريعے اپنی اسلامی شناخت كا دنيا كے سامنے مظاہرہ كریں او اپنی عظمت رفتہ كو دوبارہ بحال كریں۔
391026