اگر كسی كے پاس قرآن و عترت میں سے كوئی ايك نہ ہو تو در حقيقت اس كے پاس ان میں سے كچھ بھی نہیں ہے

IQNA

اگر كسی كے پاس قرآن و عترت میں سے كوئی ايك نہ ہو تو در حقيقت اس كے پاس ان میں سے كچھ بھی نہیں ہے

فكرو نظر گروپ:عترت قرآن كے ساتھ ہے اور قرآن عترت كے ساتھ ہے ان دونوں كے درميان جدائی نہیں ہے۔ اور اگر كسی كے پاس ان میں سے كوئی ايك نہ ہو تو حقيقت میں اس كے پاس ان میں سے كچھ بھی نہیں ہے۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق آيت اللہ العظمی محمد تقی بہجت فومنی (قدس سرہ) نے ۱۳۳۴ ہجری قمری كے آواخر میں ايران كےشہر فومن میں ايك ديندار اور باتقوی گھرانے میں آنكھ كھولی ان كی عمر صرف ۱۶ ماہ تھی كہ ان كی ماں كی وفات ہوئی اس طرح وہ انتہائی كم عمر میں ماں كے سایہ سےمحروم ہوئے۔ آپ كے والد محمود بہجت شہر فومن كے قابل اعتماد شخص تھے آپ نے ابتدائی تعليم شہر فومن كے مكتب خانہ سے حاصل كی اس كے بعد اسی شہر میں دينی تعليم كے حصول میں مشغول ہو گئے شہر فومن میں ابتدائی دينی تعليم حاصل كرنے كے بعد ۱۳۴۸ ہجری قمری كو آپ مزيد دينی تعليم حاصل كرنے كے لئے عراق تشريف لے گئے۔ اور كربلا معلی میں سكونت اختيار كی اس وقت آپ كی عمر صرف چودہ سال تھی۔ آيت اللہ بہجت (رح) تقريباً چار سال كربلا معلی میں رہے اور تہذيب نفس كے سلسلے میں سيد الشہداء (علیہ السلام) كے فيض سےاستفادہ كی انہوں نے اس دوران كربلا كے نامور اساتذہ سے فقہ اور اصول فقہ كی تعليم حاصل كی۔ آپ نے ۱۳۵۲ ہجری قمری كو نجف اشرف كا رخ كيا اور وہاں پر اپنی دينی تعليم كو پائیہ تكميل تك پہنچايا انہوں نے صرف دينی تعليم كے حصول پر اكتفا نہیں كيا بلكہ انسانی كمالات كے حصول میں اولياء كرام كی تلاش میں رہے ۔ انہوں نے اس سلسلہ میں مرحوم قاضی (رح) اور آيت اللہ شيخ محمد حسين اصفہانی (غروی) سے استفادہ كيا۔
آيت اللہ العظمی بہجت (قدس سرہ) نصيحتیں:
(الف) قرآن
خدا سے دعا كریں كہ وہ ہمیں قرآن مجيد اور عترت سے جدا نہ كرے قرآن عترت كے ساتھ ہے۔ اور عترت قرآن كے ساتھ ہے اگر كسی كے پاس ان میں سے ايك ہو تو حقيقت میں اس كے پاس ان میں سے كچھ بھی نہیں ہے غير مسلموں سے ہمارا امتياز قرآن و عترت كے ذريعے ہے اگر ہمارے پاس قرآن و عترت نہ ہوں تو پھر بھی غير مسلموں كی طرح ہیں اور اگر ہمارے پاس عترت نہ ہو تو ہم ان مسلمانوں كی طرح ہیں كہ جو اہل ايمان نہیں ہیں۔
استاد كے انتخاب میں دقت
اپنے استاد كے بارے میں غور وفكر كریں كہ وہ صراط مستقيم پر ہو۔
خدا بخشنے والا ہے
حضرت عيسی علیہ السلام نے خدا كے پاس ابليس كی بھی شفاعت كی خدا نے فرمايا كہ میں بخشنےكےلیے تيار ہوں ليكن ابليس كہے كہ میں نے گناہ كيا ہے اشتباہ كيا ہے۔
ياد خدا سعادت تك پہنچنے كا راستہ ہے
خلقت كی غرض اور سبب عبوديت ہے" خلقت الجن والانس الايعبدون" سورہ مبارك ذاريات آيت ۵۶۔ اور حقيقت عبوديت ترك گناہ ہے۔
نماز
اعلم ان كل شیء من عملك تبع لصلاتك : تمہارا پر عمل نماز كے تابع ہے: تمہیں پنجگانہ نمازیں اول وقت میں ادا كرنی چائیں۔ تمہیں تمام وجود سے خدا كی طرف توجہ كرنی چاہیے اس صورت میں تم سعادت سے محروم نہیں ہو گے۔
اپنی معلومات پر عمل كریں
كوئی شخص ايسا نہیں ہے جو كہے كہ كچھ بھی نہیں جانتا اگر وہ یہ كہتا ہے تو وہ جھوٹ بولتا ہے۔ غير معصوم بعض چيزوں كو جانتے ہیں اور بعض چيزوں كو نہیں جانتے تو جن چيزوں كو وہ جانتے ہیں اگر ان پر عمل كریں تو جن چيزوں كو نہیں جاتے وہ ان كو معلوم ہو جائیں گی" ولذين جاھدو افينا لھدينھم سلنا"(سورہ مبارك عنكوب آيت ۲۹)
اعمال ہميشہ باقی ہیں
نيك اعمال اور خدا كی اطاعتیں انسان كے ساتھ ہميشہ رہتی ہیں۔ انسان ان كو یہاں سے قيامت كے دن تك اپنے ساتھ لے جائے گا انسان جہاں بھی ہے اعمال صالحہ اس كے ساتھ ہیں اعمال صالحہ ختم ہونے والے نہیں ہیں۔
خداہمیں ديكھ رہا ہے
ہم خدا كے مہمان ہیں ہم خدا كے دسترخوان پر بیٹھے ہیں وہ ہمیں ديكھ رہا ہے خدا جانتا ہے كہ ہم كيا كر رہے ہیں خدا یہ بھی جانتا ہے كہ ہم كيا فكر كر رہے ہیں۔ خدا ہمیں ہم سے بہتر جانتا ہے۔
407845