جنوب مشرقی ايشيا كےلوگوں كو امريكہ سےشديد نفرت ہے: آيت اللہ خامنہ ای

IQNA

جنوب مشرقی ايشيا كےلوگوں كو امريكہ سےشديد نفرت ہے: آيت اللہ خامنہ ای

سياسی گروپ: قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ خامنہ ای نے پاكستان اور افغانستان كے صدور سے ملاقات كے دوران علاقے كی مشكلات كی جڑ قرار ديا اور كہا كہ امريكہ كی اس بے جا مداخلت كی وجہ سے اس علاقے كے لوگ امريكہ سے شديد نفرت كرتے ہیں۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی" ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق قائد انقلاب اسلامی نے گزشتہ روز پاكستان اور افغانستان كے صدور سے ملاقات كے دوران علاقائی مسائل پر باہمی تعاون كی ضرورت پر زور ديا۔ انہوں نے كہا ہے كہ تينوں ممالك كا دشمن مشتركہ ہے اور شدت پسندی نہ صرف پاكستان اور افغانستان كے لئے خطرہ ہے بلكہ یہ شدت پسندی ان كے بھی دامن گير ہو گئی ہے جنہوں نے پيسے خرچ كركے اس شدت پسندی كو وجود میں لايا تھا۔ آيت اللہ خامنہ ای نے امريكہ كی فوجی مداخلت كو علاقے كے مسائل كی جڑ قرار ديتے ہوئے كہا كہ امريكہ كی اس غير قانونی مداخلت كی وجہ سے علاقے كے لوگ اس سے شديد نفرت كرتے ہیں۔ قائد انقلاب اسلامی نے پاكستان اور افغانستان میں ترقی اور امن وامان كو ايران كے لئے بہت اہم قرار ديا۔ انہوں نے مزيد كہا كہ یہ تعاون صرف سياسی اور سيكورٹی كے مسائل تك محدود نہیں ہونا چاہیے بلكہ اقتصادی مسائل میں بھی باہمی تعاون ہونا چاہیے۔ اس ملاقات میں ايرانی صدر احمدی نژاد نے سہ فريقی سربراہی اجلاس كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ یہ اجلاس تينوں ممالك كے لئے بڑی اہميت كا حامل ہے۔ انہوں نے كہا كہ امريكہ كی فوجی مداخلت ، منشيات اور دہشت گردی علاقے كے سب سے بڑے مسائل ہیں ۔
آج كے اجلاس میں ۲۵ نكات پر مشتمل ايك بيانیے پر اتفاق ہوا ہے۔ پاكستان كے صدر آصف علی ذرداری نے قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ خامنہ ای سے اپنی سابقہ ملاقات كا حوالہ ديتے ہوئے كہا كہ ان كی ہدايات كی روشنی میں تہران اور اسلام آباد كے درميان روابط كے نئے دور كا آغاز ہوا ہے۔ اميد ہے كہ تينوں ممالك كے باہمی تعاون سے درپيش متعدد چيلنجوں كا مقابلہ كر سكیں گے۔ افغانستان كے صدر حامد كرزئی نے كہا كہ آج كا اجلاس مشتركہ مقاصد كے حصول كے لئے بہترين فرصت ہے۔
410618