بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی" ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق اس اجلاس میں ان تمام افراد كی مذمت كی گئی ہے جو صوبہ نيمروز میں اسلامی كتابوں كی نابودی میں ملوث تھے اور فيصلہ كيا گيا ہے كہ ان افراد كو فوری طور پر قانون كے كٹہرے میں لايا جائے گا۔ مبينہ طور پر گزشتہ ہفتے ايك غير قانونی اور غير اسلامی اقدام كے تحت افغانستان كے صوبہ نيمروز میں سركاری عہديداروں نے ۲۵۰۰۰ كلوگرام كتابیں (كہ جن میں نہج البلاغہ اور ديگر موضوعات پر اسلامی كتابیں بھی تھیں ) نہر میں پانی كی نذر كردی تھیں ۔ اس شرمناك اقدام كی وجہ یہ بيان كی گئی ہے كہ یہ كتابیں مسلمانوں كے درميان افتراق كا باعث تھیں۔ اس واقعہ كے بعد افغانستان كی پارليمنٹ كے چند نمائندوں نے اس اقدام كی مذمت كی ليكن نابود ہونے والی كتابوں كے نام معلوم ہونے كے بعد افغانستان میں غم وغصے كی لہر دوڑگئی۔ صوبہ باميان سے پارليمنٹ كے نمائندے " محمد اكبری" نے كہا كہ یہ اقدام مسلمانوں میں تفرقے كی آگ اور زيادہ بھڑكائے گا۔ انہوں نے كہا كہ نہج البلاغہ ايك معتبر ترين كتاب ہے كہ جس كے نسخے اقوام متحدہ میں بھی موجود ہیں۔ یہ بات كيسے تسليم كر لی جائے كہ یہ كتاب بھی تفرقے كا موجب ہے۔ كابل سے پارليمنٹ كے نمائندے "احمد بھزاد" نے كہا كہ اس اقدام كے پس پردہ سياسی اہداف ہیں۔ انہوں نے كہا كہ اس واقع كی مكمل تحقيقات ہونی چاہئیں۔
ياد رہے كہ اس مسئلہ كی تحقيقات افغانستان كی پارليمنٹ میں مذہبی اور ثقافتی كميشن كے حوالے كر دی گئی ہیں۔
415091