فكرونظر گروپ: ظہور اسلام اور اسلامی قوانين كی حاكميت كے بعد خواتين كے حقوق مكمل طور پر تبديل ہوئے ہیں۔ اسلام نے معاشرے كے اندر خواتين كو ايك شرافتمندانہ زندگی بخشی ہے۔ اور اجتماعی امور میں شركت كرنے كی اجازت دی ہے۔ البتہ شريعت كو ملحوظ خاطر ركھتے ہوئے انہیں معاشرتی امور میں شريك ہونے كی اجازت دی ہے۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی" ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق گيمبيا ايرانی قونصل خانے كے انچارج اسدی موحدی نے ايك سيمينار میں " مسلم خاتون كا مقام قرآن و عترت كی نگاہ میں" كے موضوع پراپنی گفتگو میں اس مطلب پر تاكيد كی ہے كہ قرآن نے متعدد آيات میں صراحت كے ساتھ بيان كيا ہے كہ خواتين اور مرد خلقت میں يكساں ہیں اور ايك ہی چيز سے خلق ہوئے ہیں۔ اسلامی منطق كی رو سے خاتون كی روحانی اور جسمانی خلقت اسی گوہر سے ہوتی ہے جس سے مرد كی تخليق ہوتی ہے۔ اور دونوں ماہيت و جنس كے اعتبار سے يكساں اور مساوی ہیں۔ اس حقيقت كے اعتبار سے دونوں میں كوئی فرق نہیں ہے۔ اسدی موحد نے بتايا كہ اسلامی انقلاب ايران كی تاثير خواتين كی تعليم میں ايك نا قابل انكار حقيقت ہے۔ اور اسلامی تعليمات مثلا حجاب، خواتين كی عقب ماندگی كا باعث نہیں ہیں بلكہ خواتين كی سعادت و خوش بختی كا موجب ہیں۔
420523