چين میں مساجد كا شمار تبليغ دين كے قانونی مراكز میں ہوتا ہے

IQNA

چين میں مساجد كا شمار تبليغ دين كے قانونی مراكز میں ہوتا ہے

سياسی وسماجی گروپ: چين كے مسلمان مبلغ " يوسف چينی" نے اس ملك میں مساجد كو تبليغ دين كے قانونی اور اہم مراكز میں سے قرار ديا ہے۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" نے سعودی عرب كی اخباری سائٹ " الاقتصادیۃ" كے حوالے سے رپورٹ دی ہے كہ يوسف چينی نے بتايا ہے كہ چين میں ۳۵ ہزار سے زائد مساجد موجود ہیں اور اس ملك میں " منار" نامی پہلی مسجد آج سے ۱۴ سو سال پہلے مشرقی چين میں تعمير كی گئی تھی۔ انہوں نے مزيد كہا كہ چين كے دارالحكومت پيكنگ میں بھی ۶۰ مساجد موجود ہیں۔ ان مساجد میں مسلمان علماء، تبليغ دين میں مصروف ہیں جبكہ بعض حكومتی عہد ے بھی مسلمانوں كے پاس موجود ہیں۔ يوسف چينی نے كہا كہ چين كے ادارہ اديان نے مساجد میں دين كی تبليغ كو قانونی حيثيت دے ركھی ہے ليكن مساجد سے باہر كسی كو دين كی تبليغ كی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے بتايا كہ چين میں مساجد اسلامی معماری كی طرز پر تعمير كی گئیں ہیں اور مساجد صرف نماز كی ادائيگی كی جگہیں نہیں ہیں بلكہ انمیں ديگر اسلامی سرگرمياں بھی انجام پاتی ہیں۔
422776