بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی" ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق علامہ فضل اللہ نے امريكی لكھاريوں كی ايك ٹيم سے ملاقات كے دوران كہا كہ آج دنيا میں مختلف تہذيبوں كے درميان ٹكراؤ نہیں ہے بلكہ مختلف سياستوں كےدرميان تناؤ ہے۔ انہوں نے كہا كہ مختلف تمدنوں كے درميان گفتگو بہت اہم مسئلہ ہے اور ہم مختلف تہذيبوں اور اديان كے درميان روابط پر ايمان ركھتے ہیں۔ انہوں نے وائٹ ہاؤس كی سياست كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ اوباما نے امريكی سياست میں تبديلی كے اپنے وعدے پر عمل نہیں كيا اور دنيائے اسلام سے اپنی مشكلات كے حل كے لئے بھی كوئی مؤثر اقدام نہیں كيا ہے۔ علامہ فضل اللہ نےكہا كہ اوباما اسلامی اور عرب ممالك كو اسرائيل سے روابط استوار كرنے پر مجبورتو كر رہا ہے ليكن اب تك اس نے اسرائيلی جرائم پر اسرائيل كے خلاف اپنی زبان سے ايك لفظ بھی نہیں نكالا ہے۔ انہوں نے كہا كہ ہم ديكھ رہے ہیں كہ اسرائيل كے حاميوں كے لئے وائٹ ہاؤس كے دروازے كھلے ہیں اور باراك اوباما یہودی لابی كے سامنے بے بس ہے۔ علامہ فضل اللہ نے آخر میں كہا كہ امريكہ حزب اللہ اور حماس كو دہشت گرد كہتا ہے حالانكہ یہ تحريكیں اپنے وطن كا دفاع كر رہی ہیں جبكہ امريكہ اسرائيل كی طرف سے ۵۰۰ فلسطينی بچوں پر فاسفورس بمبوں كے استعمال كو دہشت گردی كہتا نظر نہیں آ رہا۔
423604