بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی" ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق آيت اللہ العظمی بہجت كےدفتر كيطرف سے ۲۵ جون ۲۰۰۹ء كو آيت اللہ محمد تقی بہجت كا چہلم مسجد اعظم (قم) میں منعقد كيا جائے گا۔ آيت اللہ العظمی محمد تقی بہجت فومنی ۱۳۳۴ ہجری قمری كو شہر فومن میں پيدا ہوئے۔ ابتدائی تعليم شہر فومن كے مكتب خانہ سے حاصل كی دينی تعليم كا آغاز بھی اسی شہر سے كيا اعلی دينی تعليم كے لئے عراق كا رخ كيا۔ آيت اللہ سيد ابوالحسن اصفہان ، آيت اللہ ضياء عراقی، آيت اللہ مرزا نائين، آيت اللہ شيخ محمد حسين غروی اصفہانی ، آيت اللہ سيد علی قاضی اور آيت اللہ سيد حسن باد كوبھ ای كے سامنے زابوے تلمذطے كيا۔ آپ ۱۳۶۳ ہجری قمری كو ايران واپس آ گئے اور قسم میں مرحوم آيت اللہ العظمی حجت كوہ كمری اور آيت اللہ العظمی بروجری كے درس خارج میں شركت كی۔ آپ نے اپنی بابركت زندگی میں متعدد كتابیں بھی تاليف كیں۔ آخر كار عالم تشيع كے عظيم مرجع اور عرفان ، تقوا اور نفس كی پاگيزگی میں اپنی مثال آپ ۱۷ مئی ۲۰۰۹ء كو اپنے خالق حقيقی سے جا ملے۔
423853