بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" شعبہ قم كی رپورٹ كے مطابق ۵ اگست ۲۰۰۹ء كی رات كو آيت اللہ محمد امامی كاشانی نے مسجد جمكران میں زائرين كے اجتماع سے خطاب كرتے ہوئے كہا كہ منجئی عالم بشريت كے ظہور كے عقيدے پر تمام امت اسلامی كا اتفاق ہے ليكن یہ عقيدہ كہ منجئی بشريت كا نام مہدی (عج) ہے، وہ زندہ ہے اور ہماری نظروں سے غائب ہے، مذہب شيعہ اثنا عشری سے مختص ہے۔ انہوں نے كہا كہ روايات میں ہے كہ آخرالزمان میں فرزند امام حسن عكسری علیہ السلام كے ظہور كا عقيدہ ركھنے والے شيعہ امتحان اور آزمائش میں مبتلا ہوں گے حتی كہ شيعوں كے داخلی اختلافات كا تذكرہ بھی روايات میں موجود ہے۔ انہوں نے مزيد كہا كہ ديگر اديان میں بھی منجئی عالم بشريت كا عقيدہ موجود ہے اور یہ مسئلہ ان كی دينی كتابوں میں بھی موجود ہے۔ انہوں نے كہا كہ دنيا كے اكثر لوگ آخر الزمان میں ايك عظيم انقلاب كے منتظر ہیں۔ آيت اللہ امامی كاشانی نے دنيا میں موجود سياسی اور اقتصادی مشكلات كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ آج انسانيت كو منجئی بشريت كے ظہور كی ضرورت سب سے زيادہ ہے۔ انہوں نے كہا كہ امام زمانہ (عج) سے دعا اور توسل شيعہ عقيدے كے ساتھ مختص ہے اور ان كے ساتھ توسل كے لئے مخصوص جگہ ہونی چاہیے اور مسجد جمكران اس كے لئے بہترين جگہ اور بہترين نعمت ہے۔ آيت اللہ امام كاشانی نے كہا كہ گھر میں بھی نماز امام زمانہ (عج) پڑھی جا سكتی ہے ليكن مسجد مقدس جمكران اس كے لئے بابركت جگہ ہے۔ انہوں نے امام زمانہ (عج) سے راز و نياز اور توسل كو خدا كی بہترين نعمتوں میں سے قرار ديا اور كہا امام زمانہ (عج) علیہ السلام سے توسل خداوند عالم كی طرف سے بندے پر نعمت اور لطف ہے۔
440074