بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" شعبہ لبنان كی رپورٹ كے مطابق اس ملاقات میں مذاہب اسلامی كے درميان اتحاد و وحدت كے لئے كی جانے والی كوششوں اور انہیں درپيش چيلنجز اور مسلمانوں كے درميان تفرقہ ڈالنے كے لئے عالمی استكبار كی سازشوں كے بارے میں بحث و گفتگو كی گئی۔ آيت اللہ فضل اللہ نے ان تمام سازشوں كا مقابلہ كرنے كے لئے واحد راہ حل شيعہ وسنی علماء كے مابين اتحاد و وحدت كو قرار ديتے ہوئے كہا كہ علماء اسلام كو مكمل طور پر آگاہ رہنا چاہیے اور معاشرے میں رائج غلط رسومات اور خرافات كو ختم كرنے كے لئے كوشش كرنی چاہیے۔ انہوں نے تقريب اسلامی مذاہب كو ايكدوسرے كے قريب كرنے كو حياتی مسئلہ قرار ديتے ہوئے كہا كہ امت اسلام میں تمام تر فتنہ و اختلاف ايجاد كرنے كی كوششوں كے باوجود مسلمان بيدار ہیں اور وہ عالم استكبار كی سازشوں كے دھوكہ میں نہیں آئیں گے اور علماء اسلام كو بھی چاہیے كہ وہ تفرقہ اور اختلافاتی جنگ كو ختم كرنے كی كوشش كریں۔
علامہ فضل اللہ نے آخر میں اسلامی مذاہب كے مشتركہ نكات كو سامنے ركھتے ہوئے علمی نشستوں كے انعقاد كا مطالبہ كيا ہے۔
449339