بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی ''ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق پارليمنٹ میں كابل كے نمائندے سيد حسين عالمی بلخی نے قدس شريف كے اسلامی تشخص كی حمايت كی اعلی كونسل كے پروگرام كے آغاز میں كہا كہ اگر افغانستان میں دينی اعتقادات اور اصولوں پر حكومت قائم ہو جائے تو ہم اس ملك میں موجود مشكلات پر قابو پا سكتے ہیں۔ پارليمنٹ میں پيسا عوام كے نمائندے مولوی سيد فريد نے بھی اس پروگرام میں خطاب كرتے ہوئے كہا كہ جب تك مسلمانوں كے درميان اختلافات پائے جاتے ہیں اور بھائی چارے اور اتحاد و وحدت كی فضا قائم نہیں ہوتی اس وقت تك ہم اپنی مشكلات كو حل نہیں كر سكتے۔ اعلی تعليمی انسٹیٹيوٹ خاتم البنين كے فقہ و حقوق كالج كے پرنسپل عبداللطيف سجادی نے بھی اس پروگرام میں وحدت اسلامی كو پوری دنيا كے مسلمانوں كی مشكلات كے حل كا ذريعہ قرار ديا ہے۔ سجادی نے كہا كہ اگر ہم دين اسلام كے تشخص كو قائم ركھیں اور دينی تفكرات كومضبوط بنا لیں تو فلسطين اور دنيائے اسلام كے دشمنوں كے پنجوں سے نجات پا سكتے ہیں۔
450126