فلسطين كی حمايت فقط ملت كے اتحاد و يگانگ كے ذريعے ہی ممكن ہے: قائد انقلاب اسلامی

IQNA

فلسطين كی حمايت فقط ملت كے اتحاد و يگانگ كے ذريعے ہی ممكن ہے: قائد انقلاب اسلامی

سياسی گروپ: قائد انقلاب اسلامی نے ۱۱ ستمبر كو ماہ مبارك رمضان كے تيسرے جمعۃ المبارك كے عظيم اجتماع میں فرمايا ہے كہ قدس كے عالمی دن كے موقع پر ہونے والے مظاہروں سے سوء استفادہ كرنے اور تفرقہ ايجاد كرنے والے بعض ناپسند عناصر سے لوگوں كو ہوشيار رہنا چاہیے كيونكہ فلسطين كی حمايت فقط ملت كے اتحاد و وحدت كے ذريعے ہی ممكن ہے۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی ''ايكنا" نے قائد انقلاب اسلامی كی سائٹ كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ قائد انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ خامنہ ای نے ۱۱ ستمبر كو ماہ مبارك رمضان كے تيسرے جمعۃ المبارك كے عظيم اجتماع میں اميرالمؤمنين حضرت علی علیہ السلام كے سياسی كرداركو بيان كرتے ہوئے امام خمينی(رح) كے سياسی كردار كو آنحضرت كی سيرت و كردار سے ہم آہنگ قرار ديا اور فرمايا كہ روز قدس، امام خمينی(رح) كی ايك نماياں اور اہم يادگار ہے۔ خداوند متعال كے فضل و كرم سے عظيم اور بيدار ايرانی ملت آئندہ جمعہ كو متحد ہو كر مظلوم فلسطينی عوام كی حمايت میں ہونے والے مظاہروں میں بھر پور شركت كرے گی۔
آپ نے قدس كے عالمی دن كے ساتھ امام خمينی(رہ)،انقلاب اور ايرانی عوام كے دلی لگاؤ كی طرف اشارہ كرتے فرمايا كہ ہر سال دشمن كی یہ كوشش رہی ہے كہ وہ روز قدس كو بے اہميت قرار دے ليكن ايرانی عوام اس سال بھی تہران اور ملك كے دوسرے شہروں میں اس مظاہرے میں بھر پورشركت كر كے قدس كے نام كو ايك مرتبہ پھر زندہ كریں گے۔
حضرت آيت اللہ خامنہ ای نے روز قدس كو ملت ايران كی وحدت كا مظہر قرار ديتے ہوئے فرمايا كہ قدس كے مظاہروں میں تفرقہ ڈالنے اور سوء استفادہ كرنے والے ناپسند عناصر سے لوگوں كو ہوشيار رہنا چاہیے۔
انہوں نے نماز جمعہ كے پہلے خطبہ میں حضرت علی علیہ السلام كے سياسی كردار كے مختلف پہلوؤں كی وضاحت كرتے ہوئےفرمايا كہ حضرت اميرالمؤمنين(ع) كی سياست، معنوی اور اخلاقی اصولوں پراستوار تھی۔
انہوں نے سياست اور اخلاق كے باہم ہونے كو لوگوں اور معاشرے كے لئے كمال كا باعث قرار ديتے ہوئے مزيد فرمايا كہ اگر سياست، اخلاق سے جدا ہو اور فقط قدرت ، ثروت اور مادی امور كے حصول كا ذريعہ بن جائے تو یہ سياست معاشرے اور سياستدانوں كے لئے ايك آفت میں تبديل ہو جاتی ہے۔
آيت اللہ خامنہ ای نے مزيد كہا كہ اميرالمؤمنين علی علیہ السلام نے لوگوں سے فرمايا تھا كہ ميرے نزديك كاميابی سے ہمكنار ہونے كے لئے جھوٹ اور ظلم كا سہارا لينا روا نہیں ہے اورآپ نے چاپلوسی كرنے سے سختی سے منع فرمايا تھا۔
قائد انقلاب اسلامی نے نماز جمعہ كے دوسرے خطبے كے آغاز میں ہی ملك كے سابقہ اور حالیہ عہديداروں اور سياسی شخصيتوں كو مخاطب قرار ديتے ہوئے تيس سال كے عرصے میں پيدا ہونے والی تحريكوں اور رونما ہونے والے واقعات پر بحث و گفتگو كی۔
انہوں نے بعض گروپوں اور انجمنوں كی پيدائش كا سبب "بنيادی تفكرات" میں اختلافات كو قرار ديتے ہوئے كہا كہ بعض ديگر گروپ اور اختلافات محض اپنے مفادات كے حصول كے لئے جبكہ تيسرا گروپ قوانين واصول كو نافذ العمل كرنے كی كيفيت اور روش كے مسئلہ میں اختلاف كے پيش نظر وجود میں آئے لہذا ان گروپوں كے ساتھ مختلف برتاؤ ہونا چاہیے۔
قائد انقلاب اسلامی نے ان اختلافات اور گروپوں كے ساتھ امام خمينی(رح) كے مختلف نوعيت كے برتاؤ كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ امام خمينی(رح) نے اميرالمؤمنين(ع) كے سياسی كردار كی پيروی كرتے ہوئے ہر سياسی گروپ كے ساتھ متناسب اور حقيقت پر مبنی برتاؤ كيا تھا۔
حضرت آيت اللہ خامنہ ای نے ان بعض گروپوں اور تحريكوں كے انقلابی اور مذہبی سوابق كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ بعض اختلافات كا سرچشمہ اصول و قوانين كے نفاذ كے طريقہ كارمیں تھا ليكن بعض گروپوں نے اپنے منافع اور مفادات كے حصول كے لئے امام (رہ) اور انقلاب سے ٹكر لی اور انہوں نے اس نظام میں زہر اگلنے كی كوشش كی ليكن جب امام (رہ) كو یہ خطرہ محسوس ہوا تو آپ نے نرم رویہ كے بجائے سختی سے ان كا مقابلہ كيا۔
انہوں نے سياسی عہديداروں كو نصحيت كرتے ہوئے كہا كہ انحراف، فساد اور برائيوں كے مقابلے میں اپنی حفاظت كریں۔
قائد انقلاب اسلامی نے چھوٹی چھوٹی لغزشوں اور انحرافات سےسستی برتنے سے بہت بڑے بڑے انحرافات كے وجود میں آنے پر قرآن كريم كی آيات سے استفادہ كرتے ہوئے كہا كہ چھوٹی چھوٹی غلطياں آہستہ آہستہ انسان كو اندر سے فاسد كر ديتی ہیں۔ اور یہ فساد كبھی عمل میں اور كبھی عقيدہ میں انحراف كا باعث بنتا ہے۔ لہذا سب كو تقوی اختيار كرتے ہوئے اپنے اور اپنے خاندان والوں كی حفاظت كرنا چاہیے۔
انہوں نے عدل و انصاف كے قيام، دينی اخلاق وكردار، آزاد فضا میں صنعتی، علمی اور فكری ترقی، دشمنوں كے مقابلے میں استقامت و پائيداری كو اس نظام كی سلامتی اور فساد سے محفوظ نظام كی علامتوں میں سے قرار ديا ہے۔
آيت اللہ خامنہ ای نے مزيد كہا كہ ہر حكومت كے لئے دوست اور دشمن كا ہونا ايك فطری امر ہے اور اس دنيا میں كوئی ايسی حكومت نہیں ہے جس كے دوست اور دشمن نہ ہوں۔ فقط مہم یہ ہے كہ اس بات میں دقت ہونی چاہیے كہ حكومت كے دشمن اور دوست كون لوگ ہیں۔
انہوں نے عالمی استكبار امريكہ، برطانیہ اور صہيونيوں كی ايران كے ساتھ دشمنی كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ یہ مخالفتیں اور دشمنياں باعث افتخار ہیں اور كسی كو ان مخالفتوں سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے جبكہ دنيا كے مومن اور استقلال پسند عوام اور مستقل مزاج سياستدان اس ملت اور نظام كے حامی ہیں۔
حضرت آيت اللہ خامنہ ای نے دوسرے خطبے كے آخر میں سب لوگوں كے بيدار اور ہوشيار رہنے كی ضرورت پر زور ديتے ہوئے كہا كہ لوگوں كو بيدار رہنا چاہیے تاكہ بعض لوگ اپنی سرگرميوں كے ذريعے ملت كے لئے ايك جھوٹی اور جعلی اسلامی جمہوریہ بنانے كا خواب نہ ديكھیں اور امام (رہ) اور انقلاب كے ثمرآور اور مفيد وجذاب نعروں كوكھوكھلا نہ كرسكیں۔
463125