ظالم طاقتوں كے خلاف انسانی معاشروں كی وحدت روز قدس میں پوشيدہ ہے: ايرانی صدر

IQNA

ظالم طاقتوں كے خلاف انسانی معاشروں كی وحدت روز قدس میں پوشيدہ ہے: ايرانی صدر

سياسی گروپ: اسلامی جمہوریہ ايران كے صدر ڈاكٹر محمود احمدی نژاد نے تہران كے نماز جمعہ كے خطبوں سے پہلے خطاب كے دوران روز قدس كو دنيا كے تمام حريت پسندوں كی وحدت كا دن قرار ديتے ہوئے كہا ہے كہ ظالم اور فاسد طاقتوں كے مقابلے میں انسانی معاشروں، مسلمانوں اور ايرانی عوام كی وحدت اس دن میں پوشيدہ ہے۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق ايرانی صدر محمود احمد نژاد نے روز قدس كو مستكبرين اور ظالموں كے تسلط سے انسانيت كی نجات كا آغاز قرار ديتے ہوئے كہا ہے كہ امام خمينی(رح)نے ۳۰ سال پہلے الہی الہامات كے ذريعے اس دن كو روز قدس كا نام ديا تھا۔
انہوں نے روز قدس كو دنيا كے تمام حريت پسندوں كی وحدت كا دن قرار ديتے ہوئے كہا كہ ظالم اور فاسد طاقتوں كے مقابلے میں انسانی معاشروں، مسلمانوں اور ايرانی عوام كی وحدت اس دن میں مخفی اور پوشيدہ ہے۔
انہوں نے فلسطين كی اہميت كو بيان كرتے ہوئے كہا كہ ہمیں اس ظالم حكومت كی تشكيل كی تاريخ سے آگاہ ہونا چاہیے
پہلی جنگ عظيم سے قبل پوری دنيا پر قبضہ كرنے كا منظم پروگرام بنايا گيا تاكہ ملتوں كے مادی اور معنوی ذخائر پر قبضہ كيا جا سكے۔
انہوں نے مزيد كہا كہ پہلی جنگ عظيم كے بعد مسلمانوں كی غفلت سے استفادہ كرتے ہوئے سرزمين فلسطين كو بوڑھے استكبار برطانیہ كے قبضے میں دے ديا گيا اور اس دوران منظم منصوبے كے تحت صیہونيوں نے زمينوں كے خريدنے كے بہانے سے اس پوری سرزمين پر قبضہ كر ليا اور قتل و غارت كا بازار گرم كر ديا۔
ايرانی صدر نے ہولوكاسٹ كے قصہ كو ان كا ايك اور ڈرامہ قرار ديتے ہوئے كہا كہ ان كے دعوی كے مطابق كئی لاكھ یہوديوں كو آگ كے تنوروں میں جلا ديا اور اس سلسلے میں قوم یہود كی مظلوميت كے تحت انہیں ايك سرزمين میں آباد كرنے كا منصوبہ بنايا گيا۔ ہمارا سوال تم سے یہ ہے كہ تمہارا یہ دعوی صحيح ہے تو اس واقع كے بارے میں تحقيق كيوں نہیں كرنے ديتے اور اسے ايك خفیہ راز كے طور پر كيوں ركھا ہوا ہے۔ احمدی نژاد نے كہا كہ فلسطين دنيا كا ايك اہم ترين مسئلہ ہے اور اگر دنيا كے كسی بھی كونے میں جنگ ہے تو وہ صہيونيوں كی ايماء پر ہے۔
انہوں نے كہا كہ ہولوكاسٹ كا واقعہ يورپ میں ہوا تھا اور اس كا مقصد فلسطين میں یہوديوں كو آباد كرنا تھا۔
اگر ہم اس بات كو قبول كر لیں تو انہیں يورپ اور امريكہ میں آباد كيوں نہیں كرتے تاكہ وہ امن وامان سے رہ سكیں۔
466672