نہج البلاغہ كی نگاہ میں نماز كی اہميت و مقام كا جائزہ

IQNA

نہج البلاغہ كی نگاہ میں نماز كی اہميت و مقام كا جائزہ

فكرونظر گروپ: نماز خداوند متعال كی طرف سے عائد ايك عظيم فريضہ اور فرمان ہے جو ايك مومن كی بارگاہ الہی میں بہترين حالت ہے اسی وجہ سے ضروری ہے كہ اس كی اہميت اور قدرومنزلت كو جانا جائے۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" شعبہ اصفہان نے "ہلال" سائٹ كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ نماز وہ پہلا حكم الہی ہے جو پيغمبر اكرم(ص) كی بعثت كے چند دن كے بعد جبريل امين خداوند متعال كی جانب سے لے كر آئے اور پيغمبر اكرم(ص) نے وحی الہی كے اس حكم كو اپنا معمول بنا ليا اس وحی كے نزول كی كيفيت كچھ اس طرح ہے كہ پيغمبر اكرم(ص) كے نبوت كے عہدہ پر فائز ہونے كے چند دن بعد جبرائيل امين دوسری مرتبہ آنحضرت پر نازل ہوئے اور آسمان سے پانی لا كر آپ كو وضو كرنے نماز پڑہنے اور ركوع وسجود كرنے كی تعليم دی۔
قابل غور بات یہ ہے كہ پيغمبر اكرم(ص) كے بعد علی علیہ السلام پہلے شخص ہیں جنہوں نے ۹ سال كی عمر میں نماز كو قائم كيا ہے جو پيغمبر (ص) كے گھر میں تھے اور جب پيغمبر نے وضو كيا آپ نے بھی وضو كيا اور جب رسول خدا(ص) نماز كے لئے كھڑے ہوئے تو اميرالمؤمنين (ع) نے بھی پيغمبر(ص) كی اقتداء میں نماز ادا كی اور علی علیہ السلام كے پيچھے فقط حضرت خديجہ(ع) كھڑی تھیں جنہوں نے پيغمبر اكرم(ص) كی اقتداء میں نماز ادا كی تھی۔
پہلی نماز بھی جماعت كے ساتھ ادا كی گئی ايسی جماعت كہ جس كی امامت پيغمبر اكرم(ص) كروا رہے تھے اور ان كے پيچھے ۹ سال كا بچہ اور اس بچے كے پيچھے پيغمبر اكرم(ص) كی زوجہ محترمہ حضرت خديجہ(س) كھڑی تھیں۔
اميرالمومنين علی علیہ السلام كی نظر میں نماز
جيسا كہ ہم نے ديكھا كہ شيعوں كے پہلے امام اور پيغمبر اكرم(ص) كے بلافصل جانشين حضرت علی علیہ السلام پيغمبر اكرم(ص) كے بعد اسلام كے پہلے نمازی ہیں وہ بھی بلوغ سے چھ سال قبل، پس اس سے معلوم ہوتا ہے كہ اس عظيم انسان كا نماز سے ايك خاص ارتباط تھا۔
مسلمانوں كے قبلہ میں پيدا ہونے والے علی علیہ السلام نے ۹ سال كی عمر میں پہلی مرتبہ پيغمبر اكرم(ص) كی اقتداء میں نماز ادا كی ہے لہذا آپ يقينی طور پر دوسرے مسلمانوں كی نسبت نماز كی اہميت سے آگاہ ہیں۔
نماز كے وقت علی علیہ السلام كی یہ حالت ہو جاتی تھی كہ ايك جنگ میں ان كے پاؤں میں تير لگ گيا اور جتنی بھی كوشش كی گئی اس تير كو نہ نكال سكے جب پيغمبر اكرم(ص) كو خبر ملی تو آپ نے فرمايا نماز پڑہنے كی حالت میں علی علیہ السلام كے پاؤں سے تير كھينچ لو كيونكہ علی اس وقت اس طرح جمال حق كے نظارے میں محو ہو جاتا ہے كہ اپنے آپ سے مكمل طور پر بے خبر ہو جاتا ہے انہوں نے ايسا ہی كيا اور علی علیہ السلام كے پاؤں سے تير نكالا اور آپ زرا بھی متوجہ نہ ہوئے اور جب نماز سے فارغ ہو چكے تو درد كا احساس ہوا۔
اسی طرح جنگ صفين كی خوفناك راتوں میں سے ايك رات كو جب جنگ كی آگ بھڑكی ہوئی تھی دوسری طرف سے تيروں كی بارش ہو رہی تھی تو لشكر والوں نے ديكھا كہ علی علیہ السلام قبلہ كی طرف منہ كر كے نماز مين مصروف ہیں نماز كے بعد لوگوں نے پوچھا يا اميرالمؤمنين یہ نماز پڑہنے كا كونسا ٹائم تھا تو علی علیہ السلام نےفرمايا۔ اس جنگ كا مقصد ہی یہ ہے كہ ہم ظلم و فساد كو جڑ سے اكھاڑ پھينكیں تاكہ نماز اور الہی احكام كو قائم كيا جا سكے۔
شہيد محراب
پيغمبر اكرم(ص) كے تربيت يافتہ اور لائق شاگرد حضرت علی علیہ السلام نے فرمايا نماز ميری آنكھوں كا نور ہے۔ پوری زندگی سائے كی مانند پيغمبر اكرم(ص) كے پيچھے چلنے والا علی علیہ السلام كس طرح نماز كو اہميت نہ دے كيا آپ مكمل طور پر پيغمبر كے مطيع نہیں تھے حالانكہ پيغمبر اكرم(ص) كو نہج البلاغہ اور علی علیہ السلام كے كردار میں اسوہ اور نمونہ عمل قرار ديا گيا ہے اور آپ پيغمبر اكرم(ص) كے كلام اور كردار سے ذرہ برابر بھی پيچھے ہٹنے كو تيار نہیں ہیں۔ وہ علی كہ جس كی ولادت كعبہ میں اور شہادت مسجد يعنی محراب عبادت میں ہوئی وہ كس طرح اس نماز كی اہميت كو فراموش كر سكتے ہیں۔
اميرالمؤمنين علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں كئی مقامات پر اس عظيم الہی فريضہ يعنی نماز كی اہميت كو بيان كيا ہے منجملہ خطبہ ۱۹۹ كے آغاز میں اپنے اصحاب كو اسلام كے اہم امور كی وصيت كرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
نماز كو اس طرح ادا كرواور اس كی حفاظت كے لئے اس طرح كوشاں رہو كہ جس طرح حق ہے اور اس كے ذريعے سے خداوند متعال كا قرب حاصل كرو كيونكہ خداوند قرآن كريم میںفرماتا ہے كہ نماز ايك ايسا فريضہ ہے جو معين وقت میں اہل ايمان پر واجب ہوئی ہے كيا تم نے اہل جہنم كا وہ جواب نہیں سنا كہ جب قرآن كريم كے بقول ان سے پوچھا جائے گا كہ كس چيز نے تمہیں جہنم میں ڈالا ہے" تو وہ كہیں گے ہم نماز نہیں پڑھا كرتے تھے۔
نہج البلاغہ میں نماز
خزاںمیں درختوں كے پتوں كی طرح نماز گناہوں كو دھوڈالتی ہے اور انسان كی قيد سے نجات پانے والے حيوانوں كی طرح انسان كو نجات عطا كرتی ہے۔
رسول خدا(ص) نے نماز كو پانی كے ايسے گرم چشمے سے تشبیہ دی ہے كہ جو لوگوں كے گھر پر ہو اور دن رات پانچ مرتبہ اس میں اپنے آپ كو دھوئے تو اس صورت میں اس پر كوئی ميل كچيل باقی نہیں رہتی ہے۔
اور قرآن مجيد فرماتا ہے كچھ ايسے لوگ بھی ہیں كہ تجارت، معاملات اور دنيا ان كے دلوں كو ياد خدا اور نماز كے ادا كرنے اور زكوۃ دينے سے نہیں روكتی۔
اگرچہ خدا نے پيغمبر كو جنت كی بشارت دی ہوئی تھی اس كے باوجود آپ بڑے اہتمام كے ساتھ نماز پڑہتے تھے اور اپنے گھروالوں كو نماز پڑہنے كا حكم ديا كرتے تھے۔
پيغمبر نے فرمايا ہے: نماز دين كا ستون ہے اگر یہ قبول ہو گئی تو اس كے بعد تمام اعمال قبول ہوجائیں گے اور اگر یہ قبول نہ ہوئی تو باقی اعمال بھی قبول نہیں ہوں گے۔
466901