بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق آيت اللہ ری شہری ملك كی ايك مایہ ناز علمی، ثقافتی اور سياسی شخصيت ہیں،جنہوں نے متعدد كتابیں تاليف كی ہیں جن میں سے ميزان الحكمہ،مبانی شناخت، مبانی خداشناسی، عدل در جہان بينی توحيد، فلسفہ وحی و نبوت اور رہبری در اسلام اہم ترين كتابیں ہیں۔
حال ہی میں ان كی قرآن وحديث كے موضوعات پر مندرجہ ذيل چاركتابیں شائع ہوئی ہیں۔ "تحكيم خانوادہ از منظر قرآن و حديث"،
" الگوی مصرف از نگاہ قرآن و حديث"، "گزيدہ حكمت نامہ پيامبر اعظم(ص)" اور'' گزيدہ دانش نامہ اميرالمؤمنين" اس رپورٹ میں ان كتابوں كا مكمل تعارف كروايا گيا ہے۔
۱۔ كتاب "الگوی مصرف از نگاہ قرآن و حديث"
اس كتاب میں پہلی مرتبہ اور ايك نئے انداز سے آيات اور احاديث میں غورخوض كر كے كفايت شعاری كے معيار پر بحث و گفتگو كی گئی ہے۔ اس كتاب كے مضامين كےپيش نظر معاشی ترقی كا ايك حقيقی ستون كفايت شعاری كے معيار كی اصلاح ہے كيونكہ اگر كفايت شعار كا معيار صحيح نہ ہو تو بے جا مصرف كی وجہ سے سرمایہ كاری كے منابع تباہ ہو جاتے ہیں اور معاشرے كی رفاہ اور معاشی ترقی رك جاتی ہے۔ اسی بناء پر اسلامی نظام میں كفايت شعاری كے معيار كی اصلاح كا موضوع انتہائی اہميت كا حامل ہے۔
قائد انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ خامنہ ای كی جانب سے اس سال كو كفايت شعاری كے معيار كی اصلاح كا سال قرار دينے سے اس موضوع كی اہميت دوگنی ہو گئی ہے جيسا كہ ان كے كلام میں اشارہ ہوا ہے كہ كفايت شعاری كے معيار كی اصلاح فقط ايك اقتصادی اور معاشی مسئلہ ہی نہیں ہے بلكہ یہ ثقافتی اور سماجی پہلو بھی ركھتاہے اور كفايت شعاری كے ذريعے انسان اپنی تہذيب نفس كے ساتھ ساتھ خود خواہی، حرص، لالچ، جيسی خواہشات پر كنڑول پا ليتا ہے زھد انسان كی معنوی ترقی كا باعث بن سكتا ہے لہذا قرآن كريم كے تمام پيروكاروں اور ملت ايران كی اقتصادی، ثقافتی اور سماجی ترقی كا درد ركھنے والے افراد كو چاہیے كہ وہ اس موضوع كو مستحكم اور اپنی زندگی میں نافذ كرنے كے لئے اپنی تمام تر كوششوں كو بروئے كار لائیں۔
اس كتاب كے مقدمے میں آيا ہے كہ "بے شك اس تحريك كی تقويت اور استحكام میں پہلا قدم اس دعوت كا مثبت جواب ہے اور قرآن كريم اور اسلامی احاديث كی نظر میں كفايت شعاری كے معيار سے دقيق آگاہی ہے۔ قرآن كريم اور احاديث اسلامی میں "الگوی مصرف" كے نام سے كوئی مستقل مسئلہ بيان نہیں ہوا ہے ليكن انفاق ، نفقہ، قصد، اقتصاد، قناعت، معيشت میں اندازہ گيری، اسراف اور تبذير كے بارے میں موجود آيات و احاديث سے الگوی مصرف كے بارے میں اسلام كے نقطہ نظر كو اخذ كيا جا سكتا ہے۔
یہ كتاب چھ ابواب پر لكھی گئی ہے جن میں اصلاح الگوی مصرف كے مبانی ، شخصی و قومی وسائل میں كفايت شعاری كی ضرورت، قومی وسائل میں كفايت شعاری كے طريقے، مصرف میں دينی پيشواؤں كی عملی سيرت اور قرآن و احاديث كے فرامين كی وضاحت كی گئی ہے۔
اس كتاب كی تاليف میں مندرجہ ذيل كتابوں سے استفادہ كيا گيا ہے۔ نہج البلاغ، شرح نہج البلاغہ، احقاق الحق، احياء علوم الدين، الادب المفرد، ارشاد القلوب، اسدالغابہ، اصلاح المال، اعلام الدين فی صفات المومنين، امالی، الايمان، بحارالانوار، الدرایۃ والنہایہ، تاج العروس، تاريخ بغداد، تحف العقول عن آل الرسول(ص)، التوحيد، تہذيب الاحكام، ثواب الاعمال وعقاب الاعمال، الحفريات، حلیۃ الابرار فی احوال محمد وآلہ الاطہار(ع) اور خصال وغيرہ۔
ياد رہے كہ ۲۳۶ صفحات كی اس كتاب كو دارالحديث پبليكيشنز نے ۱۰۰۰ كی تعداد میں شائع كيا ہے۔
كتاب "گزيدہ دانشنامہ اميرالمومنين"
اس كتاب كو بھی آيت اللہ ری شہری نے فارسی زبان میں تاليف كيا ہے جس میں اميرالمؤمنين كے دانش نامہ كا ايك نئے انداز میں تعارف كروايا گيا ہے انہوں نے اس كتاب كو آٹھ سال كے عرصے میں تاليف كيا ہے جسے علمی معاشروں میں بہت زيادہ پذيرائی ملی ہے۔
اس كتاب كا اصلی متن عربی زبان میں ہے جس كا نام "موسوعۃ الامام علی بن ابيطالب(ع) فی الكتاب والسنۃ والتاريخ" ہے یہ كتاب بارہ جلدوں پر مشتمل ہے اور اس كا فارسی ترجمہ بھی بارہ جلدوں میں ہے اور اس كے علاوہ يكجا دونوں زبانوں میں بھی یہ كتاب شائع ہو چكی ہے جو ۱۴ جلدوں پر مشتمل ہے۔
ليكن اس كتاب كا حجم بڑا ہونے كی وجہ سے سب لوگوں تك اس كو مہيا كرنا مشكل تھا لہذا اس كتاب كا خلاصہ تيار كيا گيا ہے تاكہ سب لوگ اس سے استفادہ كر سكیں لہذا اس خلاصہ میں تمام اصلی اور اكثر جزوی عناوين كو تحرير كيا گيا ہے۔ فقط اہم تجزیہ و تحليل اور وضاحت كا خلاصہ كيا گيا ہے۔
یہ كتاب سولہ حصوں پر مشتمل ہے جس كے پہلے حصہ میں امام علی علیہ السلام كے خاندان، آپ كی زندگی كا ماحول، آپ كے والدين ، نام و القاب و كنيت اورآپ كی سيرت وصورت اور ازدواج اور اولاد كا تذكرہ كيا گيا ہے۔
دوسرے حصہ میں امام علی علیہ السلام پيغمبر(ص) كے ساتھ ، تيسرے حصے میں علی(ع) كی قيادت اور پيشوائی كے لئے پيغمبر اكرم(ص) كی كوشش، چوتھے حصے میں پيغمبر اكرم(ص) كے بعد امام علی(ع) پانچویں حصے میں امام علی(ع) كی سياست، چھٹے حصے میں امام علی(ع) كی جنگیں، ساتویں حصے میں امام علی(ع) كے سخت ترين حالات زندگی، آٹھویں حصے میں امام علی(ع) كی شہادت، نویں حصہ میں امام علی(ع) كی شخصيت كے بارے میں نظريات، دسویں حصے میں امام علی(ع) كی خصوصيات، گيارہویں حصے میں امام علی(ع) كے كلمات، بارہویں حصے میں امام علی(ع) كے فيصلے، تيرہویں حصے میں امام علی(ع) كی كرامات، چودھویں حصے میں امام علی(ع) كی محبت و شفقت ، پندرہویں حصے میں امام علی(ع) سے دشمنی اور سولہویں حصے میں امام علی(ع) كے اصحاب اور گورنروں كے بارے میں تحرير كيا گيا ہے۔
ياد رہے كہ ۸۹۶ صفحات پر مشتمل اس كتاب كو بھی دارالحديث پبليكيشنز نے شائع كيا ہے۔
كتاب گزيدہ حكمت نامہ پيامبر اعظم(ص)
اس كتاب میں پيغمبر اكرم(ص) كے بارہ ہزار سے زائد حكمت پر مشتمل فرامين كو تحرير كيا گيا ہے جو آپ نے اعتقادی، اخلاقی، سماجی، سياسی، معاشی، صحت، انسان اور كائنات كی معرفت جيسے موضوعات كے بارے میں ارشاد فرمائے تھے اس كتاب كو ۱۰ حصوں اور ۴۹ ابواب اور ۴۴۸ فصلوں كی صورت میں تحرير كيا گيا ہے۔
اس كتاب كے پہلے حصے میں پيغمبر اكرم(ص) كی نظر میں انسان كی عقل كے مقام ومنزلت اور عقلمندی كی ضرورت كی وضاحت كی گئی ہے۔
دوسرے حصہ میں پيغمبر اسلام(ص) كے فرامين، تيسرے حصے میں امامت اور امت جيسے اہم موضوعات، چوتھے حصے میں عالم اسلام سے مربوط فرامين پانچویں حصے میں تبليغ، بچے كی تربيت اور تہذيب نفس كے بارے میں پيغمبر اكرم(ص) كے ارشادات، چھٹے حصے میں عبادات كا فلسفہ ، ساتویں حصے میں اخلاقی اور سماجی مسائل كے بارے میں فرامين، آٹھویں حصے میں معاشی مسائل كے بارے میں آنحضرت(ص) كے ارشادات، نویں حصے میں صحت اور طب كے بارے میں آپ كے فرامين، دسویں حصے میں مختلف موضوعات پر پيغمبر اسلام(ص) كے فرامين اور ارشادات كو تحرير كيا گيا ہے۔
یہ كتاب ۱۱۲۴ صفحات پر مشتمل ہے۔
كتاب تحكيم خانوادہ از منظر قرآن و حديث
اس كتاب میں اسلام كے اہم احكامات سے استفادہ كرتے ہوئے تين اصلی موضوعات "خاندان كی تشكيل" خاندان كے استحكام اور سربلندی كے اسباب، اور خاندان كی تباہی كے اسباب كو بيان كيا گيا ہے۔ اس كتاب كے تعارف میں آيا ہے كہ خاندان معاشرے كا ايك اہم ستون ہے جو انسانوں كی خوش بختی اور بدبختی كے وسائل فراہم كرتا ہے اسی بناء پر اسلام نے خاندان كی سلامتی اور ترقی كی خصوصی تاكيد فرمائی ہے اس كے علاوہ اس كتاب میں خاندان كی تشكيل، خاندان كے استحكام اور سربلندی اور اس كے تباہ ہونے كے اسباب كو بيان كيا گيا ہے۔
اس كتاب میں خاندان كے تقدس كے بارے میں آيا ہے كہ اسلام كی نظر میں خاندان ايك خصوصی اہميت اور احترام كا حامل ہے كہ اسے كسی دوسرے ادارہ سے مقايسہ نہیں كيا جا سكتا ہے پيغمبر اكرم(ص) كی ايك حديث میں آيا ہے كہ اسلام میں خداوند متعال كے نزديك خاندان سے زيادہ محبوب اور كوئی چيز نہیں ہے۔ آنحضرت(ص) كا یہ كلام اس بات كی طرف اشارہ ہے كہ خاندان اسلام كا سب سے اہم اور مقدس ادارہ ہے۔
اس كتاب كے دوسرے حصے میں محبت، دينی تربيت، جنسی خواہشات حلال طريقے سے پورا كرنا، خاندان كی معاشی ضرورتوں كو پورا كرنے كے لئے دعا كرنا وغيرہ كے بارے میں مطالب تحرير كیے گئے ہیں۔
اور اس كتاب كے تيسرے حصے میں خاندان كی آفات، شوہر اور بيوی كی جانب سے آنے والی آفات كو بيان كيا گيا ہے اور اس كتاب كے آخری حصے میں خاندان كی آفات كے بارے میں تجزیہ و تحليل كيا گيا ہے۔
یہ كتاب ۵۲۰ صفحات پر مشتمل ہے۔
468323