جنت البقيع میں موجود آئمہ اطہار(ع) كی قبروں كو دوبارہ تعميركرنے كی اجازت ہونا چاہیے۔

IQNA

جنت البقيع میں موجود آئمہ اطہار(ع) كی قبروں كو دوبارہ تعميركرنے كی اجازت ہونا چاہیے۔

عزازی نامہ نگار/عباس ابراہيمی: آيت اللہ العظمی سبحانی نے جنت البقيع میں آئمہ اطہار(ع) كی قبروں كے انہدام كی مناسبت سے ايك پيغام میں كہا ہے كہ دنيا كے مسلمان نجد اور حجاز كے حكمرانوں سے حرمين شريفين كی آزادی اور آئمہ اطہار(ع) كی قبور كی دوبارہ تعمير كا مطالبہ كرتے ہیں۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے "لبيك" سائٹ كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ آٹھ شوال كی مناسبت سے آيت اللہ العظمی سبحانی نے اپنے ايك پيغام میں كہا ہے كہ جنت البقيع میں آئمہ اطہار(ع) كے روضوں كی بے حرمتی اور انہدام كا دن دوسرا عاشورا ہے اور مسلمانوں بالخصوص شيعوں كو چاہیے كہ وہ اس اقدام سے اپنی نفرت كی آواز كو دنيا تك پہنچائیں۔ ۸۵ سال قبل جہالت اور گمراہی كے لشكر نے جنت البقيع میں موجود آئمہ اطہار(ع) اور خاندان رسالت كے ديگر افراد كی قبروں پر حملہ كرتے ہوئے انہیں زمين بوس كر ديا تھا۔ اس پيغام میں آيا ہے كہ قرآن مجيد نے مسلمانوں كو حمد وتسبيح الہی كرنے والے گھروں كی عزت و احترام كا حكم ديا ہے اور فرماتا ہے "فی بيوت اذن اللہ ان ترفع" جلال الدين سيوطی اپنی كتاب 'درمنثور" میں لكھتے ہیں كہ پيغمبر اكرم(ص) نے مسجد میں اس آيت كی تلاوت كی تو ايك شخص نے پوچھا بيوت سے كيا مراد ہے؟ پيغمبراكرم(ص) نےفرمايا پيغمبر كے گھر مراد ہیں۔ اس وقت ابوبكر نے حضرت زہراء(س) كے گھر كی طرف اشارہ كرتے ہوئے پوچھا كہ كيا یہ گھر بھی ان گھروں میں سے ہے؟ پيغمبر نے فرمايا "نعم من افاضل" ہاں ان سے بہتر اور افضل ہے۔
اس پيغام میں آيا ہے كہ انہیں افراد نے امام ھادی اور امام عكسری علیہ السلام كے روضوں كو ويران كيا ہے كہ جو حقيقت میں پيغمبر كے گھر تھے اور جن میں آئمہ اور ان كی والدہ خدا كی عبادت اور حمدوثنا كيا كرتی تھیں۔ افسوس سے كہنا پڑتا ہے كہ ان گھروں كے عزت و احترام كی بجائے منہدم كر ديا گيا ہے۔ دنيا كے عقلمندوں حتی كہ سابقہ شريعتوں كے پيروكاروں كی یہ رسم تھی كہ وہ انبياء اور اولياء كی قبروں كا احترام كيا كرتے تھے اور اس كا بہترين گواہ مقبوضہ فلسطين میں حضرت ابراہيم خليل كی قبر اسی طرح اردن، سوریہ، مصر اور عراق میں ديگر انبياء اور اولياء الہی كی قبور ہیں۔

اس پيغام كے ديگر حصے میں آيا ہے كہ افسوس سے كہنا پڑتا ہے كہ نجد كےعرب اسلامی ثقافت سے كوسوں دور ہیں اور آيت شريف "قل لا اسئلكم علیہ آجرأ الا المودۃ فی القربی" پر عمل كرنے كی بجائے اس كے ساتھ دشمنی پر اتر آئے ہیں اور اہل بيت عصمت وطہارت(ع) اور ان كے خاندان والوں كے دسيوں آثار كو منہدم كر ديا ہے۔
اس پيغام كے آخر میں آيا ہے كہ دنيا كے مسلمان، نجد اور حجاذ كے حكمرانوں سے مطالبہ كرتے ہیں كہ وہ حرمين شريفين كوآزاد كر دیں اور اس بات كی اجازت دیں كہ اہل بيت(ع) كے چاہنے والے ان كی قبروں كی دوبارہ تعمير كریں اور حج و عمرہ كے وقت تمام اسلامی گروپوں كو اپنے فرائض كی انجام دہی میں آزاد چھوڑ دیں تاكہ حرم امن الہی تمام لوگوں كے لئے "امن كا حرم" قرار پائے۔
470334