عالم اسلام كے مسائل كے ماہر سعد اللہ زارعی نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی 'ايكنا" سے گفتگو كے دوران حج كی عظيم كانفرنس اور عالم اسلام كو درپيش چيلنجز كی طرف اشارہ كرتے ہوئے اس بارے میں اپنے نقطہ نظرات كی وضاحت كی ہے۔
انہوں نے حج كو عالم اسلام كی ايك عظيم كانفرنس قرار ديتے ہوئے كہا كہ تمام فرق و مذاہب كے لوگ اپنے نظرياتی اختلافات كے باوجود اس عظيم اسلامی اجتماع میں مشتركہ انجام دينے كے لیے جمع ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزيد كہا كہ افسوس سے كہنا پڑتا ہے كہ بعض اسلامی ممالك كی خلاف ورزی كی بنا پر حقيقی اور قرآنی حج محو ہوتا جا رہا ہے اور حج كے بہت سے اعمال اپنی سماجی اور حقيقی شكل وصورت سے خارج ہو چكے ہیں۔
انہوں نے كہا كہ حج ايك بين الاقوامی اور وسيع پيمانے كا عمل ہے اور یہ فقط امت اسلامی كے متحد كرنے كا ذريعہ ہی نہیں ہے بلكہ اس اسلامی عمل كے ذريعے دنيا كے مظلومين كو اسلام كے قريب كيا جا سكتا ہے۔
انہوں نے كہا كہ حج كے بہت سے اعمال ظاہری طور پر سادہ ليكن باطنی طور پر معرفت اور انسانوں كی تربيت كا خزانہ ہیں۔
انہوں نے آخر میں كہا كہ برائت مشركين اور كلی طور پر ہر قسم كی برائيوں اور نجاستوں سے برأۃ توحيد اور معرفت خدا كی تمہيد ہے۔
492342