ايران كے ثقافتی نمائندوں كا چين كے ساتھ دينی اور تعليمی معلومات پر تبادلہ خيال كرنے كی ضرورت پر زور

IQNA

ايران كے ثقافتی نمائندوں كا چين كے ساتھ دينی اور تعليمی معلومات پر تبادلہ خيال كرنے كی ضرورت پر زور

سياسی وسماجی گروپ: پارليمنٹ كے ثقافتی كميشن كےركن نمائندوں نے چين كی سماجی علوم كی اكیڈمی كے سربراہ سے ملاقات كے دوران دونوں ممالك كے درميان دينی، آرٹ، تعليمی اور ثقافتی معلومات پر تبادلہ خيال كرنے كی ضرورت پر زور ديا ہے۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كےمطابق بيجنگ میں ۱۲ نومبر كو ہونے والی اس ملاقات میں پارليمنٹ كے ثقافتی كميشن كے ركن اور اس وفد كے سربراہ "بيژن نوباوہ" ثقافتی كميشن كے ترجمان "ستار ہدايت خواہ" ثقافتی كميشن كی سربراہ كمیٹی كے سيكرٹری "بہروز جعفری" اسلامی ثقافت و روابط آرگنائزيشن كے تعليمی اور تحقيقاتی مشير "رضا ملكی" چين میں ايرانی كلچرل سنٹر كے ڈائريكٹر "محمد علی سابقی" اور چين كے سماجی علوم كی اكیڈمی كے بين الاقوامی شعبے كے سربراہ "يانگ يانگ" موجود تھے۔
اس ملاقات میں دونوں ممالك كے درميان دينی، آرٹ، تعليمی اور ثقافتی معلومات كا تبادلہ كرنے كی ضرورت پر زور ديا گيا ہے۔
علاوہ ازیں طرفين نے اسلامی ثقافت و روابط آرگنائزيشن كے تحقيقاتی سنٹر كے تعاون سےفارسی زبان كے تكميلی كورس كے انعقاد پر بھی اتفاق كيا ہے۔ كہا جاتا ہے كہ چين كی سماجی علوم كی اكیڈمی كے ۳۵ تحقيقاتی انسٹیٹيوٹز اور ۳۲۰۰ محقق ہیں جو چين كے تمام صوبوں میں سرگرمياں انجام دے رہی ہیں۔
492626