بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق ثقافت و انديشہ تحقيقی مركز كی علمی انجمن كے ركن "شجاعی پور" نے غير ملكی دانشوروں اور مخاطبين كی شركت سے منعقد ہونے والی نشست میں ديگر مذاہب كی نسبت شيعہ كی تاريخ كی طرف مختصر اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ مذہب تشيع میں كچھ ايسی خصوصيات پائی جاتی ہیں جو ديگر مذاہب میں نہیں ہیں منجملہ عقلانيت، سماجی مسائل كے بارے میں ذمہ داری كا احساس، قيادت میں اتحاد اور ايك اجتہاد ہے جو ديگر مذاہب میں بہت كم پائی جاتی ہیں۔
انہوں نے اپنے مقالے میں گزشتہ ۱۵۰ سال میں اسلامی تحريكوں كا اسلامی ايران كے انقلاب سے مقايسہ كيا اور اس انقلاب كو ان سب سے زيادہ كامياب قرار ديتے ہوئے كہا كہ امام خمينی(رح) نے تشيع كی خصوصی صفات سے استفادہ كرتے ہوئے اس ميدان میں كاميابی سے ہمكنار ہوئے ہیں دنيا میں شيعہ حكومت كا ايك كامياب نمونہ پيش كيا ہے۔
شجاعی پور نے تشيع كی تين خصوصی صفات كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ شيعوں میں كچھ ايسی خصوصيات پائی جاتی ہیں جو كسی اور مذہبی میں نہیں ہیں اور وہ عدل و صداقت علوی، استقامت،پائيداری حسينی اور مہدوی نظریہ سے پيدا ہونے والے تفكر يعنی بشر كے مستقبل كی اميد ہے۔
506167