بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق جارجيا میں ايرانی كلچرل سنٹر، اديان و تمدنوں كی گفتگو كے مركز، تقريب مذاہب كی عالمی اسمبلی، مذاہب اسلامی يونيورسٹی، اديان يونيورسٹی، جارجيا میں آل البيت(ع) انسٹیٹيوٹ اور اس ملك كی ارتھوڈكس كليسا كے پادری كے دفتر كے تعاون سے ۲۶ جنوری كو منعقد ہونے والی نشست میں تقريب مذاہب كی عالمی اسمبلی كے سيكرٹری جنرل آيت اللہ علی تسخيری اور جارجيا كے ارتھوڈكس كليسا كے پادری "ٹئوڈر چووازرہ" كا پيغام پرھ كر سنايا گيا ہے اور اس كے علاوہ ايران اور جارجيا كی يونيورسٹيوں كے محققين، اساتذہ اور ماہرين اسلام نے دہشتگردی كے خلاف جنگ میں دينی قائدين اور اديان الہی كے كردار كے بارے میں اپنے نظريات پيش كیے ہیں۔
آيت اللہ تسخيری نے اپنے پيغام میں استكبار عالم كے توسط سے ہونے والی ناانصافيوں كی طرف اشارہ كرتے ہوئے اسے مختلف معاشروں میں شدت پسندی كے فروغ كا موجب قرار ديا ہے۔
انہوں نے اپنے پيغام میں مزيد كہا ہے كہ ہم اديان الہی و ابراہيمی كے پيروكارون پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے كہ انسانی معاشروں كو الہی فرامين كی اطاعت كرنے كی دعوت دیں تاكہ سب لوگ رحمت الہی كے سائے میں امن و دوستی كی زندگی گزار سكیں۔
531667