قائد انقلاب اسلامی كی طرف سے نيا شمسی سال ۱۳۸۹ "بلند ہمت اور سخت محنت" سے موسوم

IQNA

قائد انقلاب اسلامی كی طرف سے نيا شمسی سال ۱۳۸۹ "بلند ہمت اور سخت محنت" سے موسوم

میں عيد نوروز اور نئے سال كی آمد پر جو بہار ، ماحول اور طبيعت كی شادابی كا آغاز ہے ، وطن عزيز كے تمام باسيوں كو مبارك باد اور اسی طرح ديگر ممالك میں رہنے والے ايرانيوں كو تبريك و تہنيت پيش كرتا ہوں جنہوں نے وطن عزيز پر اميد و توقع كی نگاہیں مركوز كر ركھی ہیں۔
رہبر معظم كی طرف سے نئے سال كی آمد پر مباركباد كا پيغام
بسم اللہ الرحمن الرحيم
" يامقلب القلوب والابصار، يا مدبر الليل والنہار" اے دلوں اور نگاہوں كو منقلب كرنے والے! اے روز و شب كے مدبر! " يا محول الحول والاحوال" اے سالوں ، دنوں اور حالات میں تغير و تحول ايجاد كرنے والے! " حوّ ل حالنا الی احسن الحال" ہمارے حال كو بہترين حال میں بدل دے۔
میں عيد نوروز اور نئے سال كی آمد پر جو بہار ، ماحول اور طبيعت كی شادابی كا آغاز ہے ، وطن عزيز كے تمام باسيوں كو مبارك باد اور اسی طرح ديگر ممالك میں رہنے والے ايرانيوں كو تبريك و تہنيت پيش كرتا ہوں جنہوں نے وطن عزيز پر اميد و توقع كی نگاہیں مركوز كر ركھی ہیں۔ خصوصا ان جوانوں ، مردوں اور خواتين كو مباركباد پيش كرتا ہوں جنھوں نے انقلاب اسلامی اور ملك كے اعلی اہداف كے لئے عظيم الشان قربانياں پيش كیں؛ اپنی قيمتی جانوں كا نذرانہ پيش كيا اور انقلاب و ملك كی سربلندی كے لئے اپنے جوانوں كو قربان كيا۔ قابل احترام شہيدوں كے اہل خانہ، جانبازوں اور ان كے فداكار خاندان والوں اور تمام ان لوگوں كو مبارك باد پيش كرتا ہوں جو ملك كی سرافرازی وسربلندی كے لیے جد وجہد اور كوشش میں مصروف ہیں۔ بانی انقلاب اسلامی حضرت امام (رح) كی روح پر درود و سلام بھيجتا ہوں جو اس عظيم عوامی تحريك كے روح رواں اور اسلامی جمہوریہ ايران كی عظمت و شوكت و پيشرفت كا مظہر ہیں۔
عيد نوروز رشد و نمو كا آغاز ہے۔ یہ رشد و نمو جس طرح ماحول و طبيعت میں محسوس ہوتا ہےاسی طرح ہمارے دل وجاں اور ہماری ترقی و پيشرفت میں بھی مجسم اورنماياں ہوسكتا ہے۔ ہم ايك نگاہ گذشتہ سال 88 پر ڈالتے ہیں جو اب تمام ہوچكا ہے اگرطے ہو كہ سال 88 ( ہجری شمسی )كی ايك جملہ میں تعريف كی جائے تو ميری نظر میں اس كی تعريف كچھ اس طرح ہے: ايرانی قوم كا سال، ايرانی قوم كی عظمت و كاميابی كا سال، انقلاب اور ملك كی سرنوشت سے منسلك امور میں عوام كی مؤثر اور تاريخی شركت كا سال۔
سال 88(ہجری شمسی ) كے آغاز میں عوام نے ايك ايسےانتخابات میں بھرپور اور بےمثال حصہ ليا جس كی مثال انقلاب اسلامی بلكہ ہمارے ملك كی طويل تاريخ میں نہیں ملتی جو ايك ممتاز اور برجستہ نقطہ شمار ہوتا ہے اور انتخابات كے بعد والے مہينوں میں بھی عوام نے اپنی عظيم اور فيصلہ كن حركت ، اپنی استقامت، اپنی موجودگی ، اپنے قومی عزم و وقار اور اپنی بصيرت كا اہم ثبوت فراہم كيا ہے۔
انتخابات كے بعد رونما ہونے والے حوادث كے بارے میں مختصر طور پر جوتفسير بيان كی جاسكتی ہے وہ یہ ہے كہ تيس برس گذرنے كے بعد ملك اور اسلامی نظام كے دشمن اسلامی نظام كو اندرونی طور پر شكست دينے كے لئےاپنے تمام وسائل، قدرت و توانائی كو بروئے كار لائے ليكن ايران كی عظيم قوم ، دشمن كی اس گھناؤنی سازش اور معاندانہ حركت كے مقابلے میں ميدان میں اتر آئی اور اس نے ہوشياری، بصيرت ، پختہ عزم اور بےمثال استقامت كے ذريعہ دشمن كے شوم منصوبے كو شكست فاش سے دوچار كرديا اور انتخابات كے بعد22 بہمن تك ان آٹھ مہينوں میں جو كچھ اس ملك اور قوم پر گزرا،وہ ايك ايسا تجربہ تھا جوسبق آموز، عبرت آموز اور ايرانی قوم كے لئے مایہ فخرہے ۔
سال 88 (ہجری شمسی) میں قوم كا كارنامہ درخشاں رہا ۔ حكام نے بھی بڑی اور گرانقدرخدمات انجام دی ہیں۔ یہ كوششیں اپنی حد تك بہت اچھی كوششیں ہیں جو لائق تحسين اور قابل قدر ہیں اور تمام منصف مزاج افراد پر فرض ہے كہ وہ ملك كے حكام كی جانب سے علم و سائنس ، صنعت و ٹيكنالوجی ، سماجی اور سياسی شعبوں میں كی جانی والی ان عظيم كوششوں اور كارناموں كی قدردانی كریں جو ملك كی پيشرفت اور تعمير و ترقی كے لئے انجام دی گئی ہیں۔ خداوند متعال ان سب كو اجر عطا كرے اور پيشرفت كی توفيق مرحمت فرمائے۔
ملك كی موجودہ صورت حال اور اس ملك و قوم كے اندر پوشيدہ عظيم صلاحيتوں كو ديكھ كر جو نتيجہ اخذ كيا جا سكتا ہے وہ یہ ہے كہ جو كچھ ہم نے انجام ديا ہے اور جو كچھ حكام اور عوام نے پایہ تكميل تك پہنچايا ہے وہ ترقی و پيشرفت اور انصاف و مساوات تك پہنچنے كے لئے ملك كے اندر پائی جانے والی عظيم توانائيوں اور صلاحيتوں كے مقابلے میں كوئی بڑا كارنامہ نہیں ہے۔ ہم نے ماضی میں جو محنت كی ہے، ہم سب كو اس سے زيادہ محنت كرنے اور اس ذمہ داری كو اپنے دوش پر محسوس كرنے كی ضرورت ہے۔
ہر نئےسال كے آغاز پر جو دعا ہم سب پڑھتے ہیں اس میں یہ جملہ قابل توجہ ہے " حوّل حالنا الی احسن الحال" یہ نہیں كہا كہ ہمیں اچھے دن اور اچی حالت میں پہنچا دے۔ اللہ تعالی سے التجا كی جاتی ہے كہ ہماری حالت كو بہترين حالت اور بہترين وقت اور بہترين صورت حال میں تبديل كر دے۔ مسلمان كی بلند ہمتی كا تقاضا یہی ہے كہ تمام ميدانوں میں نقطہ عروج تك پہنچنے كے لئے جد وجہدكرے۔ اس لئے كہ اس دعا میں جو تعليم ہمیں دی گئی ہے اور جو ہمارا فريضہ بھی ہے اس كی انجام دہی میں ہم كامياب ہوں، تاكہ ہم ملك كی ضرورت اور ملك كی صلاحيتوں كے شايان شان عمل كر سكیں، ہمیں اپنی ہمت اور اپنے حوصلے كو بہت بلند كرنا ہوگا۔ كام اور عمل كو زيادہ وسعت اور زيادہ محنت كے ساتھ انجام دينا ہوگا۔ میں اس سال كو "دوچنداں ہمت اور كام" كے سال سے موسوم كرتا ہوں اور اميد كرتا ہوں كہ عوام اور حكام مختلف اقتصادی ، ثقافتی ، سياسی ، تعميراتی اور سماجی شعبوں میں باہمی تعاون كے ساتھ اہم اور اعلی اقدامات كے ذريعہ، دوچنداں ہمت ،سعی پیہم اور مضاعف كام كے ساتھ نئی راہیں ہموار كریں اور اپنے اعلی وبلند اہداف كے قريب تر پہنچ جائیں ۔ ہمیں مضاعف ہمت كی ضرورت ہے، ملك كو دوچنداں كام كی ضرورت ہے۔
ہمیں اللہ تعالی پر توكل كرنا چاہیے؛ اللہ تعالی سے نصرت طلب كرنی چاہیے اور یہ ياد ركھنا چاہیے كہ كام كرنے كے لئے ميدان بڑا وسيع ہے۔ ہمارےدشمن ،ہمارے علم و ايمان كے مخالف ہیں۔ ہمیں اپنے اندر علم و ايمان كو خاص طور پر مضبوط بنانا چاہیے۔ انشاء اللہ راہیں ہموار ہو جائیں گی، ركاوٹیں ختم اور ان كا قد چھوٹا ہو جائے گا اور اللہ تعالی كی نصرت و تائيد، ہماری قوم، ہمارے ملك اور ہمارے حكام كے شامل حال اور ان كےسر پر سایہ فگن ہوگی۔
والسّلام عليكم و رحمةاللَّه

554741