بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے ايران كے سپريم لیڈر كے دفتر كے شعبہ تبليغات سے نقل كرتے ہوئے ۲۸ مارچ كو ايران كے صدر احمدی نژاد كے ہمراہ تہران میں منعقدہ عالمی جشن نوروز میں شريك مختلف ممالك كے صدور اور نمائندوں نے سپريم لیڈر آيت اللہ خامنہ ای سے ملاقات كی۔
انہوں نے اس ملاقات میں نوروز كو معنوی، قومی، بين الاقوامی لحاظ سے بہترين اقدار كی حامل مناسبت قرار ديا اور فرمايا عيد نوروز، خلاقيت، طراوت، جوانی، نشاط، دوستوں اور قريبيوں كے مابين دوستياور مہربانی كی مضبوطی كی علامت ہے۔
انہوں نے فرمايا كہ عيد نوروز ايك قومی جشن اور دينی عيد نہیں ہے پھر بھی روايات میں اس كی بہت تعريف كی گئی ہے یہ ياد خدا كا ذريعہ اور پروردگار كے سامنے اظہار بندگی كا بہترين موقع ہے انہوں نے كہا كہ اس قديمی اسم كی بناء پر ايران میں لوگ عيد نوروز اور تحويل سال كے موقع پر زيارتی مقامات اور عبادت گاہوں میں حاضر ہوتے ہیں اور خدا اگلے سال كے لئے خيروبركت كی دعا كرتے ہیں۔
انہوں نے عيد نوروز كے عالمی عيد تسليم ہونے كے حوالے سے فرمايا یہ عالمی سطح پر عيد كا تسليم ہونا عيد نوروز كے معتقد اقوام كی طرف سے مغرب كی اقوام كے لئے ايك ہدیہ ہے۔
انہوں نے اس عالمی جشن كے انعقاد كے حوالے سے صدر احمدی نژاد كی تعريف كی كہ یہ مراسم اور انكا استمرار حكومتوں اور قوموں كو ايك دوسرے كے نزديك كرنے كا بہترين موقع ہے۔
اس ملاقات كی ابتداء میں صدر احمدی نژاد نے بھی خطاب كرتے ہوئے كہا اس عالمی جشن نوروز كے انعقاد كا مقصد باہمی روابط اور تعاون كو مضبوط كرنا ہے اور یہ طے كيا گيا ہے كہ یہ مراسم آئندہ ہر سال كسی ايك ملك میں منعقد كیے جائیں گے۔
صدر نے مزيد كہا كہ پيغام نوروز اور اس كی اقدار عالمی دنيا كے لئے امن، عدل و انصاف اور دوستی ومحبت كا پيغام ہے۔
اس ملاقات كے اختتام پر تمام صدور اور نمائندوں نے سپريم لیڈر آيت اللہ خامنہ ای كے ساتھ يادگار تصوير بنوائی۔
555223