بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی"ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق سری لنكا كے مسلمانوں كے قائد مولوی نياس نے ابتداء میں سری لنكا كے مركز كا گمپالا كے زہرا كالج میں سينھالی زبان میں اور پھر مھاراگاما كے مدير سے غفوریہ سے تعليم حاصل كی تھی۔
مختلف زبانوں پر عبور اور مختلف ممالك كے سفر كے دوران وہ مصر، مدينہ ومكہ كی يونيورسٹی، عراق، كويت، يمن اور اردن كے علماء سے بہت اچھے تعلقات ركھتے تھے۔
ملت مظلوم فلسطين كے حامی مولوی نياس كے آيت اللہ تسخيری،واعظ زادہ، شاہرودی اور حجۃ الاسلام نوراللہيان سے بھی بہت اچھے تعلقات تھے۔
انہوں نے ايرانی صدر احمدی نژاد كے دورہ سری لنكا كے دوران ان كا شاندار استقبال كيا اور اديان كے مابين گفتگو كی كانفرنس میں انہوں نے بہت اہم خطاب كيا ہے۔
وہ امام خمينی(رح) سے والہانہ عشق ركھتے تھے اور انہوں نے ايران كا كئی مرتبہ سفر كيا ہے اور اس سفر كے دوران انہوں نے قائد انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ خامنہ ای سے بھی ملاقات كی ہے وہ اتحاد و وحدت كے افكار ركھتے تھے۔
610900