بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے internethaber كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ اس قانون كے تحت اسلامی مخالف محتویٰ ركھنے والی يا قرآن كريم كو غير قانونی اور بغير اجازت كے انٹرنیٹ پر قرار دينے والی سائٹس كو بند كر ديا جائے گا اور ان سائٹس كے عہديداروں كو گرفتار كر ليا جائے گا۔
اسی طرح اس جديد قانون میں اس بات كی وضاحت كی گئی ہے كہ تركی ديانت آرگنائزيشن كی شكايت پر كمپيوٹری جرائم كی عدالت خود ميدان میں داخل ہو جائے گی اور ان توہين آميز سائٹس كو بند كرنے كے لئے تركی كی وزارت ارتباطات كی طرف مسئلہ كا جائزہ لينے كی ضرورت نہیں ہے۔
614490