بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے روزنامہ "الشرق الاوسط" كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ مظاہرين نے اپنے ہاتھوں میں پلے كارڈ اٹھا ركھے تھے جن پر حجاب كے حق میں نعرے درج تھے اور حكومت كو متنبہ كيا گيا تھا كہ انہیں قانونی شكنی پر مجبور نہ كيا جائے۔
واضھ رہے كہ بوسنيا كی پارليمنٹ میں اس قانون كو تصويب كے لئے پيش كيا گيا ہے جس میں خواتين كے حجاب پر پابندی لگانے كی بات كی گئی ہے۔
انسانی حقوق كے ايك اسكالر "جمال الدين لاتچ" نے كہا ہے كہ بعض افراد اس قسم كے قوانين منظور كرا كر بوسنيا كو ايك مرتبہ پھر داخلی خانہ جنگی میں جھونكنا چاہتے ہیں۔
لہذا تمام افراد كو چاہیے كہ وہ ايك دوسرے كے مذہبی قوانين كا احترام كریں۔
622147