بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق عربی میڈيا نے قائد انقلاب اسلامی كے اس فتوی كو بہت زيادہ بڑھ چڑھ كر بيان كيا ہے كہ كويتی روزنامہ "الانباء"، "محيط سائٹ، لبنان كے روزناموں، السفير اور الانتقاد، لندن سے شائع ہونے والے روزنامہ "الحياۃ"، سعودی عرب كے روزنامہ "الوطن" مصر كی ریڈيو ٹی وی سائٹ، "راصد نيوز چينل" اور بعض عربی سیٹلائٹ چينلز نے اس فتوی كو نشر كرتے ہوئے اسے مسلمانوں كے درميان وحدت كے قيام كو موثر قرار ديا ہے۔
شيخ الازہر "احمد الطيب" نے پيغمبر اكرم(ص) كے صحابہ اور ان كی زوجات كی اہانت كو حرام قرار دينے پر مبنی قائد انقلاب اسلامی كے فتوے پر شكریہ اور قدردانی كا اظہار كرتے ہوئے كہا آيت اللہ خامنہ ای كا فتوی ان كے صحيح علم اور فتنہ و فساد ايجاد كرنے والوں كے خطرناك ارادوں كو سمجھنے سے عكاسی كرتا ہے اور یہ اس بات كی علامت ہے كہ آپ مسلمانوں كے درميان وحدت كے خواہاں ہیں۔
شيخ الازہر نے اپنے اس بيانیے میں اس بات پر زور ديا ہے كہ جو شخص بھی مسلمانوں كے درميان فرقہ واريت كو ہوا ديتا ہے گنہگار اور الہی عذاب كا سزاوار ہے۔
الطيب نےمزيد كہا كہ میں اپنی شرعی حيثيت سے یہ كہتا ہوں كہ مسلمانوں كے درميان وحدت كے لئے كوشش كرنا واجب ہے اور اسلامی مذاہب كے پيروكاروں كے درميان اختلاف فقط ان كے علماء اور دانشوروں كے درميان اختلاف نظر میں محدود ہونا چاہیے اور اسلامی وحدت كو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔
668172