بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے "الجزيرہ نیٹ" سائٹ كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ مصر كے تقريب مذاہب كے محقق "محمد رفاعۃ" الطہطاوی" نے میڈيا سے بات چيت كرتے ہوئے كہا ہے كہ یہ فتوی بہت ہی مناسب مقام پر ديا گيا ہے اور وہ بھی ايك شيعہ نامور عالم دين كی جانب سے ہے۔
انہوں نے مزيد كہا كہ آيت اللہ العظمی خامنہ ای كا وحدت بخش فتوے كے دو پہلو ہیں جن میں سے ايك پہلو اس فتوے كا سياسی اور تعزيتی پہلو ہے اور دوسرا مكتب اہل بيت(ع) كے پيروكاروں كے پيغمبر اكرم(ص) كے صحابہ كے بارے میں صحيح موقف كی وضاحت ہے جس طرح كے حضرت علی(ع) نے وضاحت فرمائی ہے۔
اس مصری محقق نے مزيد كہا كہ یہ صحيح فتوی ايك عظيم شيعہ قائد كی جانب سے پيش ہوا ہے جو عالم اسلام میں وسيع پيمانے پر موثر نائب ہوگا اور اس فتوے پر وسيع مثبت رد عمل آنا چاہیے۔
670999