بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی 'ايكنا" نے عدلیہ كے تعلقات عامہ كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ ايرانی چيف جسٹس آيت اللہ صادق آملی لاريجانی نے ۱۰ اكتوبر كو عدلیہ كے اعلی حكام سے خطاب كے دوران امور حج كےعہديداروں اور كاركنوں كے اجتماع میں قائد انقلاب اسلامی كی حكمت آميز تقرير كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا جس طرح حج مسلمانوں كی وحدت كی علامت ہے اسی طرح اسلامی ممالك كے درميان روابط میں بھی یہ علامت پائی جانی چاہیے البتہ ہم اہل بيت(ع) كے حق مسلك كی پيروی میں كسی قسم كا شك نہیں ركھتے ليكن حق كے دفاع كی بحث وحدت كے ساتھ منافات نہیں ركھی كيونكہ اس وقت كفر اپنی پوری طاقت كے ساتھ اسلام كے مقابلے میں اٹھ كھڑا ہوا ہے لہذا ہمیں مسلمانوں كے درميان تفرقہ كے تمام اسباب كا خاتمہ كرنا چاہیے۔
آملی لاريجانی نے امريكہ كے حمايتی بعض ممالك بالخصوص صہيونی حكومت كی ہيومن رائٹس كی كھلی خلاف ورزی كی طرف اشارہ كرتے كہا كہ فلسطين كے مظلوم عوام كا فوجی گھيرا اور قتل عام اور پھر امريكہ اور يورپ كی اسرائيل كی حمايت، ہيومن رائٹس كے كس معيار كو پورا كرتی ہے۔
672182