بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی 'ايكنا" شعبہ اسلامی ثقافت و روابط آرگنائزيشن كی رپورٹ كے مطابق محسن پاك آئين نے "اسلامی وحدت اور سماجی حالات میں علماء اور دانشوروں كا كردار" كے موضوع پر منعقدہ سيمينار سے خطاب كرتے ہوئے كہا ہے كہ اس مشكل اور دشوار دور میں اس قسم كے سيمينار كا انعقاد بہت زيادہ اہميت كا حامل ہے۔
انہوں نے مزيد كہا كہ امريكہ كےدو سياست دان تھوماس فريدمن ۲۰۰۷ء اور "چايكن" نے ۲۰۰۸ء میں اپنے تحقيقی منصوبوں كی انجام دہی كے بعد كہا كہ مغربی دنيا گر اپنی مستقبل كی سلامتی كی فكر میں ہے تو اسے مسلمانوں كے اتحاد كو روكنے كے لئے كسی كوشش سے دريغ نہیں كرنا چاہیے۔
مغرب كو جان لينا چاہیے كہ مسلمانوں كے درميان اختلاف كے مواقع موجود ہیں۔
انہوں نے مزيد كہا كہ اسی وجہ سے مغربی سياستدانوں نے امريكی حكمرانوں بالخصوص امريكی صدر "اوباما" كو تجويز پيش كی ہے كہ وہ اپنی تقارير میں مسلمانوں كی وحدت كی علامت "عالم اسلام" كے مفہوم كی بجائے فقط "مسلمانوں" كا لفظ استعمال كرے۔
پاك آئين نے آخر میں اسلامی مذاہب كے درميان وحدت بخش مقاصد كے تحقق اور سردجنگ كے خطرات كا مقابلہ كرنے كی غرض سے مختلف طريقوں كی تلاش كے لئے تجاويز پيش كی ہیں جن میں سے ايك تجويز اسلامی ممالك میں تخصصی گول ميز كانفرنسوں كا انعقاد ہے۔
672050