عالم اسلام میں جمہوريت كے مفہوم كا سرچشمہ قرآن كريم ہے: فلسطينی محققہ

IQNA

عالم اسلام میں جمہوريت كے مفہوم كا سرچشمہ قرآن كريم ہے: فلسطينی محققہ

سياسی گروپ: يورپی معاشرے جمہوريت كی اصطلاح كوبہت مشكل اور پيچيدہ بنا كر پيش كرتے ہیں جو ايك حد تك نا مفہوم ہے ليكن عالم اسلام میں یہ اصطلاح پيچيدہ نہیں ہے كيونكہ اسلامی ممالك میں جمہوريت كے مفہوم كا سرچشمہ قرآن كريم اور اسلامی شريعت كے قوانين ہیں۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی 'ايكنا" نے كويت كی سركاری خبررساں ايجنسی "كونا" كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ فلسطينی محققہ اور اردن كی "الاميرۃ سمیۃ" يونيورسٹی كی پروفيسر "نوارا الحسينی" نے ۱۵ اكتوبر كو سوئٹزر لينڈ میں "اسلام میں جمہوريت كا مفہوم اور يورپ سے اس كا رابطہ" كے موضوع پر منعقدہ سيمينار سے اپنے خطاب كے دوران كہا ہے كہ دين اسلام نےمشورہ جيسی اصل پر اعتماد كر كے جمہوريت كے بارے میں ايك واضح نظریہ پيش كيا ہے۔
انہوں نے مزيد كہا كہ يورپی جمہوريت، بشركی بنائی ہوئی ہے لہذا مختلف معياروں كی بنا پر اس كی تعريف كی جاتی ہے ليكن اسلام میں جمہوريت كی بنياد ايسے اصول اور قوانين پر استوار ہے كہ جن كی بازگشت خداوند تعالی كی طرف سے ہے۔
اس فلسطينی محققہ نے اس سيمينار میں موجود يورپی دانشوروں سے مطالبہ كيا ہے كہ وہ جمہوريت كے ايك ايسے مفہوم كو پيش كریں جو حقيقت پر مبنی ہوں۔
انہوں نے آخر میں كہا كہ حقيقت كا مطلب یہ ہے كہ تمام بين الاقوامی آرگنائزيشنز انسانی اور سياسی مسائل میں انصاف سے كام نہیں ليتیں جس وجہ سے دنيا میں مشكلات پيدا ہو رہی ہیں۔
675400