24 ذيحجہ كے دن كو مسلمانان عالم عيد مباہلہ سے ياد كرتے ہیں ؛آغا عبدالحسين بڈگامی كشميری

IQNA

24 ذيحجہ كے دن كو مسلمانان عالم عيد مباہلہ سے ياد كرتے ہیں ؛آغا عبدالحسين بڈگامی كشميری

رسول خدا حضرت محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےحجاز اور يمن كے درمياں نجران نامی علاقےمیں مقيم عيسائيوں كو24 ذيحجہ 9 ہجری قمری كواللہ كی وحدانيت قبول كرنے كی دعوت دی جسے مباہلہ كہتے ہیں۔
اس دن توحيدی عقيدے كا مشركانہ عقيدے كا آمنا سامنا ہونا تھا ايكدوسرے كے عقيدے كے بارے میں خدا سے غضب كی دعا كرنی تھی اور توحيدی قافلے كو ديكھ كرہی مشركوں نےدبے الفاظوں میں اپنی شكست كا اعلان كيا ، اسطرح عقائد كا علمی اور عملی مناظرہ ہوا جس پر علم وعمل كا لا علمی وبی عملی پر غلبہ ہوا جسے اہل بصيرت عيد مناتے ہیں ۔كيونكہ اس كاميابی پر اللہ نے ايك آيت نازل فرمائی ہے۔
آيئے اس نورنی دن كے تاريخی منظر پر طائرانہ نظركركے اپنے اذہان اور عقيدے كو متبرك كرتے ہیں۔
نجرانی عيسائيوں كو اسلام كی دعوت
ہجری كا نواں سال ہے، مكہ معظمہ اور طائف توفتح ہو چكا ہے ۔ يمن ،عمان اور اسكے مضافات كے علاقے بھی توحيد كے دائرے میں آ ہوچكے ہیں اس بيچ حجاز اور يمن كے درمياں واقع نجران نامی ہے جہاں عيسائی مقيم ہیں اور شمالی آفريقہ اور قيصر روم كی عيسائی حكومتیں ان نجرانی عيسائيوں كی پشت پناہی كررہے ہیں ، شايد اسی وجہ سے ان میں توحيد كے پرچم تلے آنے كی سعادت حاصل كرنے كا جذبہ نظر نہیں آتا ہے ليكن ان پر رحمۃ للعالمين مہربان ہورہے ہیں ۔
حضرت رسول رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نجرانی عيسائيوں كے بڑے پادری"ابو حارثہ "كے نام اپنا خط روانہ كرتے ہیں ،جس میں عيسائيوں كو اسلام قبول كرنے كی دعوت دی جاتی ہے ۔ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ كا خط سربمہر ايك وفد كے ہمراہ نجران روانہ ہوتا ہے ۔ جب مدينہ سے آنحضرت كا نمايندہ خط لے كے نجران پہنچتا ہے جہاں وہ وہاں كےبڑے پادری ابو حارثہ كے ہاتھ آنحضرت كا خط تقديم كرتا ہے ۔ ابوحارثہ خط كھول كر نہايت دقت كے ساتھ اس كا مطالعہ كرنے لگتا ہے اور فكر كی گہرايوں میں كھوجاتا ہے ۔ اس دوران شرحبيل جو كہ درايت اور مہارت میں شہرہ شہر ہوتا ہے اسكو بلاوا بھيجتا ہے اس كے علاوہ علاقے كے ديگر معتبر اور ماہر اشخاص كو حاضر ہونے كو كہا جاتا ہے ۔ سبھی اس موضوع پر بحث و گفتگو كرتے ہیں ۔ اس مشاورتی مجلس كا نتيجہ بحث یہ نكلتا ہے كہ ساٹھ افراد پر مشتمل ايك ھيئت حقيقت كو سمجھنے اور جاننے كے لئے مدينہ روانہ كيا جاتا ہے جن كی قيادت ابوحارثہ بن علقمہ ،(حجاز میں كليسای روم كے نمايندہ اورنجران كے بڑے پادری) اورعبدالمسيح بن شرحبيل معروف بہ عاقب(علاقائی پادری)اوراھتم يا اہم بن نعمان معروف بہ سيد (نجران كے سب سے بڑے قابل احترام بزرگ شخصيت) كر رہے تھے۔
نجران كا یہ قافلہ بڑی شان و شوكت اور فاخرانہ لباس پہنے مدينہ منورہ میں داخل ہوتا ہے ۔ مير كارواں پيغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ كے گھر كا پتہ پوچھتا ہے، معلوم ہوتا كہ پيغمبر اپنی مسجد میں تشريف فرما ہیں ۔
نجران كا كارواں مسجد النبی میں داخل ہوتا ہے اور سبوں كی نظر یں ان پر ٹك جاتی ہیں ۔پيغمبر نے نجران سے آئے افراد كے نسبت بے رخی ظاہر كرتے ہیں ، جو كہ ہر ايك كيلئے سوال بر انگيز ثابت ہوا ۔ ظاہر سی بات ہے كارواں كے لئے بھی ناگوار گذرا كہ پہلے دعوت دی اور اب بے رخی دكھا رہیں ہیں ! آخر كيوں ۔
ہميشہ كی طرح اس بار بھی علی علیہ السلام نے اس گتھی كو سلجھايا ۔ عيسائيو سے كہا كہ آپ فاخرانہ لباس، تجملات اور سونے جواہرات كے بغير، عادی لباس میں آنحضرت كی خدمت میں حاضر ہو جائیں ، آپكا استقبال ہوگا۔
اب كارواں عادی لباس میں حضرت كی خدمت میں حاضر ہوتا ہے ۔ اس وقت پيغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ ان كا گرم جوشی سے استقبال كرتے ہیں اور انہیں اپنے پاس بٹھاتے ہیں اورمير كارواں ابوحارثہ نے گفتگو شروع ہوتی ہے :
ابوحارثہ: آپكا خط موصول ہوا ، مشتاقانہ آپ كی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں تاكہ آپ سے گفتگو كریں۔
پيغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: جی ہاں وہ خط میں نے ہی بھيجا ہے اور دوسرے حكام كے نام بھی خط ارسال كرچكا ہوں اور سبھوں سے ايك بات كے سوا كچھ نہیں مانگا ہے وہ یہ كہ شرك اور الحاد كو چھوڑ كر خدای واحد كے فرمان كو قبول كركے محبت اور توحيد كے دين اسلام كو قبول كریں ۔
ابوحارثہ: اگر آپ اسلام قبول كرنے كو ايك خدا پر ايمان لانے كو كہتے ہیں تو ہم پہلے سے ہی خدا پر ايمان ركھتے ہیں ۔
پيغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: اگر آپ حقيقت میں خدا پر ايمان ركھتے ہیں تو عيسی علیہ السلام كو كيوں خدا مانتے ہو اور سور كے گوشت كھانے سے كيوں اجتناب نہیں كرتے ۔
ابوحارثہ: اس بارے میں ہمارے پاس بہت ساری دلائل ہیں؛ از جملہ یہ كہ حضرت عيسی علیہ السلام مردوں كو زندہ كرتے تھے ۔ اندھوں كو بينائی عطا كرتے تھے ، پيسان سے مبتلا بيماروں كو شفا بخشتے تھے ۔
پيغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: آپ نے عيسی علیہ السلام كے جن معجرات كو گنا وہ صحيح ہیں ليكن یہ سب خدای واحد نے انہیں ان اعزازات سے نوازا تھا اس لئے عيسی علیہ السلام كی عبادت كرنے كے بجائے اسكے خدا كی عبادت كرنی چاہئے ۔
پادری "ابوحارثہ" یہ جواب سن كے خاموش ہوا۔ اور اس دوراں كارواں میں شريك كسی اور نے ظاہرا شرحبيل(عاقب) نے اس خاموشی كو توڑا ۔
عاقب -عيسی، خدا كا بیٹا ہے كيونكہ انكی والدہ مريم نے كسی كے ساتھ نكاح كئے بغير انہیں جنم ديا ہے ۔
اس دوران اللہ نے اپنے حبيب كو اسكا جواب وحی میں فرمايا:
إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِندَ اللّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثِمَّ قَالَ لَهُ كُن فَیَكُونُ{آل عمران /59}
عيسی كی مثال آدم كے مانند ہے؛كہ اسے(ماں ، باپ كے بغير)خاك سے پيدا كيا گيا۔
اس پر اچانك خاموشی چھا گئ اور سبھی بڑے پادری " ابو حارثہ "كو تك رہیں ہیں اور وہ خود شرحبيل كے كچھ كہنے كے انتظار میں ہے اور خود شرحبيل خاموش سرجھكائے بیٹھا ہے۔
آخر كار اس رسوائی سے اپنے آپ كو بچانے كيلئے بہانہ بازی پر اتر آئے اور كہنے لگے ان باتوں سے ہم مطمئن نہیں ہوئےہیں اس لئے ضروری ہے كہ سچ كو ثابت كرنے كے لئے مباھلہ كيا جائے ۔ خدا كی بارگاہ میں دست بہ دعا ہو كے جھوٹے پر عذاب كی درخواست كریں۔
ان كا خيال تھا كہ ان باتوں سے پيغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ اتفاق نہیں كریں گے ۔ ليكن ان كے ہوش آڑ گئے جب انہوں نے سنا:
فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءنَا وَأَبْنَاءكُمْ وَنِسَاءنَا وَنِسَاءكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَةُ اللّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ{آل عمران/61}
آپ كے پاس علم آجانے كے بعد بھی اگر یہ لوگ (عسی كے بارے میں) آپ سے جھگڑا كریں تو آپ كہدیں: آؤ ہم اپنے بیٹوں كو بلاتے ہیں اور تم اپنے بیٹوں كوبلاو، ہم اپنی خواتين كو بلاتے ہیں اور تم اپنی عورتوں كو بلاو ، ہم اپنے نفسوں كو بلاتے ہیں اور تم اپنے نفسوں كو بلاو۔ پھر دونوں فريق اللہ سے دعا كریں كہ جو جھوٹا ہو اس پر اللہ كی لعنت ہو۔
سچ اور جھوٹ كو اپنی حقانيت بيان كرنے كے لئے خطاب الہی ہوا ہے كہ وہ اپنے بیٹوں ، خواتين اور اپنے نفوس كو لے كے آئیں ؛ اسكے بعد مباھلہ كریں اور جھوٹے پر الہی لعنت طلب كریں گے ۔
حق ا و رباطل كی بے نظير پركھ قائم كرنی ہے۔ علم و عمل كا امتحان لينا ہے ۔ ظاہر اور باطن كا مظاہرہ كرنا ہے۔ دو آسمانی اديان كے ماننے والوں كی حقيقت كو عياں كرنا ہے كہ كس كا آسمان كے ساتھ ابھی رابطہ برقرار ہے اور كس نے یہ رابطہ منقطع كيا ہے ۔غرض طے یہ ہوا كہ كل سورج كے طلوع ہونے كے بعد شہر سے باہر (مدينہ كے مشرق میں واقع)صحرا میں ملتے ہیں ۔ یہ خبر سارے شہر میں پھيل گئ ۔
مباھلے كا اہتمام
24 ذيحجہ 9ہجری آ پہنچا۔مدينہ منورہ كے اطراف و اكناف میں رہنے والےلوگ مباھلہ شروع ہونے سے پہلے ہی اس جگہ پر پہنچ گئے ۔ نجران كے نمايندے آپس میں كہتے تھے كہ ؛ اگر آج محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ)اپنے سرداروں اور سپاہيوں كے ساتھ ميدان میں حاضر ہوتے ہیں ، تو معلوم ہوگا كہ وہ حق پر نہیں ہے اور اگر وہ اپنے عزيزوں كو لے آتا ہے تو وہ اپنے دعوے كا سچا ہے۔
سبھوں كی نظریں شہر كے دروازے پر ٹكی ہیں ؛ دور سے مبہم سایہ نظر آنے لگا جس سے ناظرين كی حيرت میں اضافہ ہوا ، جو كچھ ديكھ رہے تھے اسكا تصور بھی نہیں كرتے تھے ۔ پيغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ ايك ہاتھ سے حسن بن علی علیہم السلام كا ہاتھ پكٹرے اور دوسرے ہاتھ سےحسين بن علی علیہم السلام كو آغوش میں لئے بڑ رہے ہیں ۔ آنحضرت كے پيچھے پيچھے انكی دختر گرامی سيدۃ النساء العالمين حضرت فاطمۃ زہرا سلام اللہ علیہا چل رہی ہیں اور ان سب كے پيچھے امير المومنين علی ابن ابيطالب علیہ السلام ہیں۔
صحرا میں ہمہمہ اور ولولے كی صدائیں بلند ہونے لگیں :
كوئی كہہ رہا ہے ديكھو ، پيغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے سب سے عزيزوں كو لےآيا ہے۔
دوسرا كہہ رہا ہے اپنے دعوے پر اسے اتنا يقين ہے كہ ان كو ساتھ لايا ہے ۔
اس بيچ جب بڑے پادری ابو حارثہ كی نظریں پجتن پاك علیہم السلام پر پڑی تو كہنے لگا : ہاے رے افسوس اگر اس نے دعا كے لئے ہاتھ اٹھائے اسی لمحے میں ہم اس صحرا میں قہر الہی میں گرفتار ہو جائیں گے ۔
دوسرے نے كہا ؛تو پھراس كا سد باب كيا ہے ؟
جواب ملا اس(پيغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) كےساتھ صلح كریں گے اور كہیں گے كہ ہم جزیہ دیں گے تاكہ آپ ہم سے راضی رہیں۔ اور ايسا ہی كيا گيا۔ اس طرح حق كی باطل پر فتح ہوئی ۔
مباھلہ پيغمبر كی حقانيت اور امامت كی تصديق كا نام ہے ۔ مباھلہ پيغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كےاھل بيت علیہم السلام كا اسلام پر آنے والے ہر آنچ پر قربان ہونے كيلئے الہی منشور كا نام ہے ۔تاريخ میں ہم اس مباھلے كی تفسير كبھی امام علی علیہ السلام كی شہادت ، كبھی امام حسن بن علی علیہم السلام شہادت كبھی امام حسين بن علی علیہم السلام كی شہادت كبھی امام علی بن حسين علیہم السلام كی شہادت ، كبھی امام محمد بن علی علیہم السلام كی شہادت ، كبھی امام جعفر بن محمد علیہم السلام كی شہادت ، كبھی امام موسی بن جعفر علیہم السلام كی شہادت ، كبھی امام علی بن موسی علیہم السلام كی شہادت ، كبھی امام محمد بن علی علیہم السلام كی شہادت ، كبھی امام علی بن محمد علیہم السلام كی شہادت ، كبھی امام حسن بن علی علیہم السلام كی شہادت اور كبھی امام مھدی بن حسن كی غيبت سے ملاحظہ كرتے ہیں۔ جس سے غدير خم میں كافروں كی اسلام كے نسبت نا اميدی كی نويد كو سنتے ہیں ۔ ( اليوم ييس الذين كفروا من دينكم فلا تخشوھم واخشون)[سورہ مائدہ/1]۔ جی ہاں مباہلہ اور غدير ہمیں اسلامی قيادت كی نشاندہی كررہے ہیں ۔ جسے امامت و لايت كہتے ہیں۔ اور یہی ولايت ہےجو كہاسلام كی بقا كيلئے ہر قسم كی قربانی پيش كرتے نظر آتے ہیں ليكن اسلام پر آنچ آنے نہیں ديتے ہیں ۔
آج امامت اورولايت كی آخری كڑی پردہ غيب میں ہیں اور انكی نيابت حضرت آيت اللہ العظمی امام خامنہ ای مدظلہ العالی كررہے ہیں جن كی اتباع سے ہی حقيقی اسلام كی ترجمانی ممكن ہے ۔ جس طرح لبنان كے روحانی سنی عالم دين شيخ احمد الزين نے تقريب مذاہب اسلامی كی خبررساں ايجنسی كے ساتھ گفتگو میں كہا ہے كہ:" شريعت ہم سے تقاضا كرتا ہے كہ ہم ولی فقیہ اور رھبر كے حامی اور تابع ہوں اسلئے ہماری صلاح اسی میں ہے كہ ہم امام خامنہ ای كے نسبت اپنےايمان اور محبت كا اظہار كریں" ايسے جذبے كا اظہار وقت كی ضرورت ہے تاكہ دور حاضر میں حق كے لبادے میں جھوٹوں كا پردہ فاش ہوسكے اور اسلام میں فوج ، فوج داخل ہونے كا سلسلہ وسيعتر ہوجائے اور مباہلہ كے جانشين بقیۃ اللہ اعظم امام مہدی عجل اللہ تعالی فرج الشريف كو خداوند اذن فرج عنايت كركے ہر جگہ امن و امان ، صدق و صداقت اور حق و انصاف كا پرچم بلند ہو جائے ۔
اللہ كی بارگاہ میں دست بہ دعا ہیں كہ ہمیں مباھلہ میں فتح پانے والے اسلام پر عمل كرنے اور پيغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كی تعليمات كو عام كرنے والے ائمہ معصومين علیہم السلام كے نش قدم پر چلنے كی توفيق عطا فرمائیں ۔ آمين