بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق جمہوریہ آذربائيجان كے سياسی اور مذہبی رہنما تيمور قلی زادہ نے آذربائيجان كے اسكولوں میں پردے پر ابندی عائد كیے جانے كے حوالے سے رد عمل ظاہر كرتے ہوئے كہا كہ مسئلہ صرف اسكولوں میں پردے پو پابندی عائد كرنے تك محدود نہیں ہے بلكہ اس وقت ملك میں اسلامی مقدسات كے خلاف ايك لہر اٹھی ہوئی ہے جو ہر تھوڑے عرصے بعد مختلف شكل میں ظاہر ہوتی ہے۔
تيمور قلی زادہ نے مزيد كہا كہ اسلام كے خلاف جاری لہر كے نتيجہ میں كبھی مساجد پر پابندی لگائی جاتی ہے كبھی مساجد كو منہدم كيا جاتا ہے اور اب اسكولوں میں پردے پر پابندی كی صورت میں اس لہر كی اور شكل سامنےآئی ہے۔
انہوں نے ملك میں موجود مذہبی طاقتوں سے مطالبہ كيا كہ ملك میں جاری اس لہر كا مقابلہ كرنے كےلیے ايك مشتركہ كميشن تشكيل ديا جائے۔
729163