بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق ملائيشيا كی حكومت نے اعلان كيا ہے كہ اس ملك كے قانون كی رو سے شيعہ حضرات اپنے مذہب كے مطابق اعمال انجام دے سكتے ہیں ليكن شيعہ مذہب كے پرچار كی اجازت نہیں ہے۔
ملائيشيا كی حكومت نے اس پابندی كو گزشتہ ماہ ۲۰۰ افراد كی گرفتاری كے بعد دوام بخشا ہے۔
جميل خير نے بھارم نے كہا ہے كہ یہ محدوديت اس لیے جاری كی گئی ہے تاكہ ملك میں امن عامہ كی صورت حال میں بگاڑ پيدا نہ ہو۔
ملائيشا میں شيعہ كميونٹی كے سربراہ جناب زہيری عبدالعزيز نے كہا ہے كہ ہم نےدوسروں كو زبردستی مذہب شيعہ اختيار كرنے كو نہیں كہا ہے بلكہ اس ملك كے شيعہ دوسرے مسلمان بھائيوں كے ساتھ آرام و آشتی كے ساتھ زندگی بسر كر رہےہیں۔
761276