ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) نے رہبر معظم كی اطلاع رساں ويب سایٹ كے حوالے سے نقل كرتے ہوئے كہا ہے كہ رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے كنگاور كے شہيد قلی وند اسٹیڈيم میں كنگاور اور اس كے اطراف كے شہروں صحنہ، سنقز، ہرسين كے مؤمن مردوں ، عورتوں اور جوانوں كے عظيم و شاندار اجتماعات كو ايران سے مخصوص اور ايرانی عوام اور حكام كے باہمی دوستانہ تعلقات كا مظہر قرارديا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے شاداب و پرطراوت جذبے، خود اعتمای، كام كے لئے آمادگی اور انقلاب اسلامی كے ساتھ وفاداری كو علاقے اور پورے ملك كے عوام كی نماياں خصوصيات میں سے قرار ديتے ہوئے فرمايا: انہی با عظمت و عزت بخش خصوصيات كی وجہ سےانقلاب اسلامی نےسخت و دشوار مراحل اور خطرناك موڑوں سے عبور كيا ہے اور آئندہ بھی كاميابی كے ساتھ مشكل حالات سے عبور كرجائے گا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نےقومی استقامت اور عظيم ايرانی عوام كی عمومی تحريك انقلاب كو سراہتے ہوئے معمولی كاميابيوں پر قانع ہونے اور اس كےساتھ نہائی اہداف تك پہنچنے سے مايوسی كو انقلاب كے بارے میں دو آفتیں قرارديتے ہوئے فرمايا : عظيم الشان ايرانی قوم ترقی و كمال كی راہ پر ہرگز نہیں ٹھہرے گی اور قرآن كريم میں فرمان خداوندی كی پيروی كرتے ہوئے پوری ثابت قدمی سے عدالت، تازگی ، آگاہی اور حقيقی جمہوريت سے مزين ايك اسللامی سماج كے قيام تك اپنا سفر جاری ركھے گی ۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نےقومی اتحاد و يكجہتی كو اسلامی نظام كی كاميابی كی دوسری شرط قرارديتے ہوئے فرمايا: خوش قسمتی سے عوام اور حكام و عوام كے درميان بہترين اتحاد برقرار ہے جبكہ اس كو مزيد مستحكم اور مضبوط بنانے كی ضرورت ہے ۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے طاغوتی حكومت كے رہنماؤں كی ڈھٹائی اور امريكہ و برطانیہ كی پاليسيوں اور ان كےاحكامات كی پيروی كی طرف اشارہ كرتے ہوئے فرمايا: دشمن اس بات سے جل رہا ہے كہ اسلامی انقلاب كے سائے میں ايران ان كی اطاعت و فرمانبرداری كے حلقہ اور ان كے تسلط و قبضہ سے نكل گيا اور ايك ايسی طاقت و قدرت میں تبديل ہوگيا ہے جو سامراجی طاقتوں كے مقابلے میں سينہ سپر كئے ہوئےہے اور عزت و استقلال كے ساتھ ان كی منہ زوری اور تسلط پسندی كا مقابلہ كررہا ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ايرانی عوام كے بارے میں امريكيوں كے غصہ كے علل و اسباب جاننے اور مشرق وسطی میں امريكی پاليسيوں كی ناكامی اور اسلامی جمہوریہ ايران كے اثرات كے بارے میں امريكی حكام كے اعترافات كی طرف اشارہ كرتے ہوئے فرمايا: شياطين اچھی طرح سمجھتے ہیں كہ علاقہ كی بيدار قوموں كی نگاہیں اس وقت ہمارے عزيز ملك پر لگی ہوئی ہیں اسی وجہ سےوہ اپنے تمام وسائل سے استفادہ كررہے ہیں تاكہ ايران اور ايرانی قوم ،بيداری كی عظيم تحريك كے لئے نمونہ عمل نہ بن جائیں اور ايرانی قوم كی استقامت كا جذبہ كہیں دوسری قوموں میں سرايت نہ كر جائے۔
883158