ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا ) كی رپورٹ كے مطابق آيت اللہ سيد علی سيد عباس ميلانی كا تعلق ايك علمی گھرانے سے تھا اور انہوں نے ابتدائی دينی تعليم كے بعد اعلی تعليم حوزہ علمیہ كربلا میں حاصل كی ۔
نجف اشرف میں ايك طويل عرصہ قيام كے بعد صدام حكومت كے ظلم و ستم سے مجبور ہو كر وہ بھی ديگر علماء كی طرح ايران واپس آ گئے ۔
قابل ذكر ہے كہ مرحوم كے دادا آيت اللہ العظمی سيد ھادی ميلانی مشہد میں مقيم شيعہ مرجع تقليد تھے اور آيت اللہ سيد علی سيد عباس ميلانی كو سالہا سال ان كی شاگردی كا افتخار حاصل رہا ۔
933356