ثقافت اور قرآن ايجوكيشن سينٹر كے سربراہ قرآنی خبررساں ايجنسی ايكنا كے نمائندہ كو انٹرويو كے دوران رسول اكرم ﷺ كے مقام عظمی كے بارے میں كہارسول اكرمﷺ دنيا كی بہترين اور افضل ترين مخلوقات میں سے ہیں اور ان كی بلند مرتبہ شخصيت اس حقيقت كو روشن كرتی ہے كہ آپ بہترين اور ممتاز ترين كمالات كے مالك ہیں كہ جو دوسرے اس سے محروم ہیں۔ انہوں نے كہا فخر رازی كے عقيدہ كے مطابق پيغمبروں اور اولياء اللہ كامل ترين انسان ہیں ۔ ليكن ايك شخصيت كہ جو ان سب سے بلند ترين مقام ركھتی ہے اور ان كی زندگی سب كيلئے نمونہ عمل ہے ،وہ شخصيت رسول اعظمﷺ ہیں كہ جو احكام الٰہی كو بيان كرنے والے اور انسان كو ہدايت كرنے والے ہیں۔ فخر رازی كے قول كو ادامہ ديتے ہوئے انہوں نے كہا رسول اكرم كی نسبت ہم عام انسانوں كے ساتھ اس طرح ہے جيسے قمر كی ستاروں سے ہو۔ ليكن پيغمبرﷺ كے بعد ہر دور میں ان كے نزديك ترين فرد كو كہ جو تمام كمالات اور فضائل كا حامل ہو ، وجود ہونا چاہئے یہی شخص شيعہ كے نزديك امام معصوم اور صاحب الزمان (عج)ہے ۔ انہوں نے عظمت پيغمبر ﷺ كی طرف اشارہ كرتے ہوئے اس بات كی تاكيد كی كہ پيغمبر اكرمﷺ كی رحلت سے ہم خدا كی بزرگترين نعمت سے محروم ہوئے ہیں۔حجۃ الاسلام يوسفی مقدم نے بتايا اسی لئے ہر سال امت مسلمہ رسول اكرمﷺ كی رحلت كے دن سوگ اور عزاداری كرتے ہیں اور یہ عزاداری صرف رسول اكرمﷺ سے محروميت نہیں بلكہ خدا وند متعال كی بارگاہ میں دعا اور آرزو كرتے ہیں كہ رسول اكرم كے فرامين اور ان كے بتائے ہوئے راستے پر چلنے كی توفيق عطا فرمائے۔
939180