منحرف فرقوں کے تیزی سے پھیلاؤ کی معروف ترین راہ علامات كی ترويج ہے

IQNA

منحرف فرقوں کے تیزی سے پھیلاؤ کی معروف ترین راہ علامات كی ترويج ہے

فكر گروپ : حوزہ علمیہ اور يونيورسٹی كے استاد حجة الاسلام والمسلمين ڈاكٹر محد تقی فعالی نے ايران میں فرقوں اور مذاہب كے نفوذ كے راستوں كی جانب اشارہ كرتے ہوئے كہا ہے كہ ملك میں ان كے نفوذ كا معروف ترین راہ علامات كی ترويج ہے ۔
ايران كی قرآںی خبر رساں ايجنسی﴿ايكنا﴾ كی رپورٹ كے مطابق حوزہ علمیہ اور يونيورسٹی كے استاد اور نئی جنم لينے والی روحانی تحريكوں كے حوالے سے ۹ كتابوں كے مصنف حجت الاسلام و المسلمين محمد تقی فعالی نے طلباء كی قرآنی سرگرميوں كے ملكی ادارے میں منعقد ہونے والی "جھوٹے عرفان كی آفات سے آشنائی" كے موضوع پر تيسری نشست میں اس نظریے كا تنقيدی جائزہ ليتے ہوئے خطاب كيا ہے
حجۃ الاسلام فعالی نے ايران میں فعال فرقوں كے غير سركاری اعداد و شمار كی جانب اشارہ كرتے ہوئے كہا ہے كہ ايران میں ایک غیر سرکاری سروے كے مطابق ان فرقوں اور مذاہب كی تعداد ١۰۰۰ سے زيادہ ہے جبکہ ان میں سے كچھ تنظيموں اور تحريكوں كی صورت میں کام کر رہے ہیں ۔ البتہ یہ اعداد و شمار مشخص اور دقيق نہیں ہیں ۔ لیکن شاید ایران میں ان کی تعداد کا تناسب ۹۰۰ مذاہب اور ١۰۰ فرقے کی صورت میں ہے ۔ جالب ترين نكتہ یہ ہے كہ ان فرقوں كی ايك بہت بڑی تعداد ہمارے فراہم کیے گئے امكانات كے ذريعے ترویج اور ترقی پائی رہی ہے ۔ مثال كے طور پر ان میں سے بعض فرقوں كے مبلغين نے مختلف ثقافتی مراكز میں اپنے عقائد كی ترويج كے لیے خطاب كیے ہیں ۔
انہوں نے مزيد كہا ہے كہ نحلہ سے مراد کسی فكر كی ترويج ہے ۔ مثلا میں کسی نو ظہور عرفان سے متعلق ايك كتاب خريدتا ہوں اور اس كے مطالعے كے بعد اس كے عقائد كی ترويج و تبليغ كرتا ہوں اس سلسلے میں چند افراد كو اس كتاب كی معرفی كرتا ہوں اور یہی كتاب كچھ افراد كو ديتا بھی ہوں تا كہ اس كا مطالعہ كریں اور یہ كام آہستہ آہستہ تحريكوں اور مذاہب میں تبديل ہو جاتا ہے ۔
استاد فعالی نے کہا ہے كہ ان دو مقدموں كے بعد ہم ان مذاہب كو سات مندرجہ ذيل حصوں میں تقسيم كر سكتے : ہندوستان كی روحانی تحريكیں ، امريكا كی روحانی تحريكیں، مسيحی عرفان يا تبشيری عرفان، یہودی عرفان يا كابالا، چينی عرفان ، ماورائے علم جو اس وقت ايران میں زيادہ فعال ہے اور "موفقيت" یعنی کامیابی اس كے سب سیٹس میں سے ہے اور ماورائی سينما يا معنی خيز فلمیں !
انہوں نے مزيد كہا ہے كہ ان سات اقسام میں ہندوستان دو ليلوں كی بنا پر سب سے آگے ہے ؛ ايك تو یہ كہ ہندوستان كے روحانی مذاہب كی قدامت باقی مذاہب سے زيادہ ہے اور دوسرا عصر حاضر میں ہندوستان كے مذاہب اور روحانی تحريكوں كا نفوذ دوسرے مکاتب فکر سے كئی زيادہ ہے اس طرح كہ باقی چھ عرفانی مکاتب فکر كی ٦۰٪ تعداد بھی ہندوستان كے مذاہب اور تحريكوں سے متٲثر ہیں ۔

استاد فعالی نے اس بيان كے ساتھ كہ نوظہور عرفانی مکاتب فکر كی ایک خصوصیات ان کا ایک دوسرے سے مربوط ہونا ہے خيال ظاہر كيا : رقبے اور آبادی کے لحاظ سےہندوستان کا شمار دنیا کے بڑے ممالک میں ہوتا ہے جو ايك ارب اور ۳۰۰ ملين كی آبادی پر مشتمل ہے ۔ اس ملك کی تہذيبی تاريخ كا سلسلہ کافی قدیمی ہے ۔ ہندوستان كی تاريخ میں رونما ہونے والا مہم ترين واقعہ یہ ہے كہ قبل از ميلاد مسیحی آرياؤں كی ايك نسل نے ہماليہ كی واديوں سے نیچے اتر كر اصل ہندو نسل یعنی دراویدیوں پر حملہ كيا اور جنگ و خونريزی كے بغیر ہی پورے ہندوستان پر قبضہ كر ليا ۔ ہندؤوں كی حالیہ نسل آرياؤں اور درویدیوں سے مركب ہے ۔
انہوں نے مزيد كہا ہے كہ آرياؤں كی حملہ آور قوم میں كچھ علماء بھی تھے جن كا كام مذہبی ترانے پڑھنا اور خداؤں كی عبادت كرنا تھا ۔ یہ مذہبی ترانے نسل در نسل منتقل ہوتے گئے یہاں تك كہ سال ۸۰۰ قبل از ميلاد میں پہلی دفعہ كتاب كی صورت میں منظر عام پر آئے ۔
انہوں نے كہا : اس كتاب كا نام "ودا" ہے اور اسی زمانے میں ہندوستان كا پہلا آئين "ودا" كے نام سے تشكيل پايا جس كا دارومدار مقدس كتاب "ودا" پر تھا ۔ كتاب ودا ۴ حصوں پر مشتمل ہے پہلےحصے كا نام "ريگ ودا" ہے جو ہندوستان كی قديمی ثقافت اور كئی خداؤں كی پرستش كے نظریےکی عکاسی کرنے والے ١۰۲۸ مذہبی ترانوں پر مشتمل ہے ۔
انہوں نے مزید كہا : ايران میں ان فرقوں اور مذاہب كے نفوذ كا مہم ترين وسيلہ علامات كی ترويج كرنا ہے ۔ ان علامات كو سمبل بھی كہا جاتا ہے ۔
استاد فعالی نے كہا ہے كہ ان علامات کی كئی اقسام ہیں جن میں سے مشہورترين قسم مختلف ناموں کا استعمال ہے جو ملكی سطح پر كافی رواج پا چکی ہے ۔ اور اس كے علاوہ معروف ترين علامت مجسمہ سازی ہے جو آئين ودا كے مہم اور مشہور ترين علامات میں سے ہے ۔
انہوں نے آئين ودا كی طرف اشارہ كرتے ہو ئے كہا ہے كہ آئين ودا آٹھویں صدی قبل از ميلاد میں تشكيل پايا۔ جبكہ آئين براہمن نے ساتویں صدی قبل از ميلاد میں جنم ليا ۔ براہمنوں كی مقدس كتاب "اوپانيشا" ہے ۔ ہندوستان كا تيسرا آئين "جين مت" اور چوتھا "بدھ مت " ہے ۔ بدھ مت كے آئين كی ترويج و تبلیغ مجمسہ سازی كے ذريعے کی جاتی تھی اور عصر حاضر میں بہت سے ایسے مجسمے ملے ہیں جن کا سائز چند سنٹی میٹر سے ۹۰ میٹر تک ہے اور كچھ سال پہلے افغانستان میں طالبان نے ان کو دھماكوں سے اڑا ديا تھا ۔
انہوں نے اس بيان كے ساتھ كہ یہ مجسمے ايران كی سرحدوں تك آئے ليكن ايران میں داخل نہیں ہو سكے كہا : اس كی علت یہ تھی كہ ايران میں اس وقت موجود زرتشتی قوم ، آئين بدھ مت كے شديد مخالف تھی ۔
استاد فعالی نے ہندوستان كے قديمی مكاتب فكر میں سے آخری "آئين تنترہ" كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہاہے كہ چوتھی صدی قبل از ميلاد میں جنم لینے والے اس آٰئين كے پيروكار معتقد ہیں کہ دنيا میں صرف ايك عنصر "متضاد" كے نام سے موجود ہے ۔
انہوں نے تنترہ كےآئين كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا ہے كہ ان لوگوں كے عقیدے کی رو سے دنيا دو عناصر مردانہ اور زنانہ پر مشتمل ہے اور دنيا میں ہر قسم كے تعلقات نر اور مادہ كا نتيجہ ہیں ۔ يعنی دنيا میں رونما ہونے والے ہر حركت نر اور مادہ كے عمل اور ردعمل كا نتيجہ ہے جس كا دوسرا نام جنسی تعلقات ہیں ۔
انہوں نے واضح كيا ہے كہ آئين تنترہ كے پيروكاروں کا یہ عقیدہ تھا کہ یہ قانون انسان پر بھی حاكم ہے لہذا انسان میں رونما ہونے والی ہر حرکت جنسی عمل اور ردعمل كا نتيجہ ہے ۔ انسان كی روحانی نشو نما بھی انہی جنسی تعلقات كا نتيجہ ہے ۔
انہوں نے اس بات پر تاكيد كرتے ہوئے كہ اگر غور و فکر کیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے كہ نو ظہور عرفانی مکاتب فکر میں سے بعض جيسے مکتب "اشو" کو مكمل طور پر روحانی آئين تنترہ سے ليا گيا ہے خيال ظاہر كيا ہے كہ آج دنيا میں روحانيت کے دو طریقے مشہور و معروف ہیں ايك سكس پر مبنی روحانیت جس یا مکتب "اشو" اور دوسرا "تخدیری روحانیت" جس کی نمائندگی كاسٹنیڈا کرتا ہے ۔
925989