ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی﴿ايكنا﴾ كی رپورٹ كے مطابق حوزہ علمیہ اور يونيورسٹی كے استاد اور نئی جنم لينے والی روحانی تحريكوں كے حوالے سے ۹ كتابوں كے مصنف حجت الاسلام و المسلمين محمد تقی فعالی نے طلباء كی قرآنی سرگرميوں كے ملكی ادارے میں منعقد ہونے والی "جھوٹے عرفان كی آفات سے آشنائی" كے موضوع پر دوسری نشست میں اس نظریے كا تنقيدی جائزہ ليتے ہوئے خطاب كيا ہے ۔
حجۃ الاسلام و المسلمين فعالی نے امام زمان (عج) كےساتھ ملاقات کے جھوٹے دعویداروں كی جانب اشارہ كرتے ہوئے كہا ہے كہ ان افراد کے دعوے مختلف صورتوں میں پيش كیے گئے ہیں۔ كبھی كوئی شخص امام زمان (عج) كے ساتھ ملاقات كا دعوی كرتا ہے اور كبھی تو خود كو امام زمان (عج) كے طور پر معرفی كرتا ہے یہاں تك كہ كبھی تو خود كو نبی تصور كرنے لگتا ہے ۔
انہوں نے اس بات پر تاكيد كرتے ہوئے كہ ان لوگوں نے امام زمان (عج) ہونے يا نبوت سے مربوط دعووں سے تجاوز كرتے ہوئے الوہيت كا دعوی بھی كيا ہے خيال ظاہر كيا ہے كہ ان میں سے اكثر افراد مختلف قسم کےدعوے كرتے ہیں اس طرح كہ كبھی تو خود كو امام اور خدا کے پيغمبر کا درجہ دیتے ہیں اور كھی كہتے ہیں كہ میں ہی خدا ہوں اور عنقريب ميری جانب سے ايك پيغمبر مبعوث كيا جائے گا۔ اسی طرح ان میں سے كچھ نبوت کے جھوٹے دعویدار اعلان كرتے ہیں كہ ہم صاحب كتاب نہیں ہیں لیکن كچھ قرآن كو اپنے اوپر نازل ہونے والی كتاب كے طور پر معرفی كرتے ہیں ۔
انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے كہ اس موضوع پر بحث كافی مفصل ہے کہا ہے کہ ملكی چينل سے نشر ہونے والے "ظہور كی جانب حرکت " نامی پروگرام میں ايسے افراد كی زندگیوں کا جائزہ لیا گیا ہے جن كواس جرم پر عدالت كی جانب سے سزا سنا ئی گئی تھی ۔ مہم ترين نكتہ یہ ہے كہ ملك میں گرفتار ہونے والے ان مجرمین میں سے صرف چند افراد كا ذہنی توازن ٹھيك نہیں ہے ۔ اور تحقيقات اس بات كی نشاندہی كر تی ہیں كہ ان میں سے بيشتر افراد روحی ، فكری اور جسمی طور پر سلامت ہیں ۔
استاد فعالی نے ان چھوٹے دعووں کی علت کے بارے میں استفسار کرتےہوئے کہا ہے کہ ان افراد كے درميان تين قسم كے اہداف مشہور ہیں جن تک رسائی کی کوشش اس قسم کے دعووں کا باعث بنتی ہے ، ان میں سے پہلا یہ كہ ان افراد كی ايك بہت بڑی تعداد جنسی شہوات کی تسكين کرنا چاہتی ہے ، البتہ یہ افراد غيب كے ساتھ ارتباط ، روحانی قدرت ، بيشن گوئی ، ذہن كو پڑھنا يا نبوت اور الوہيت كے دعووں كو اپنے اہداف تك پہنچنے كے لیے استعمال كرتے ہیں اور عموما شہوت كی تسكين ان افراد كا پہلا ہدف ہوتی ہے ۔
انہوں نے دوسرے ہدف كی جانب اشارہ كرتے ہوئے كہا ہے كہ دوسرا ہدف شہرت كا حصول ہے ان میں سے بيشتر افراد بچپن سے ہی شہرت اور مقام كا شوق ركھتے ہیں جبکہ گھريلو تربيت يا مخلتف سماجی شرائط ان كے شوق كو پروان چڑھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں یہاں تك كہ وہ جاہ طلبی كے مرض میں بری طرح مبتلا ہو كر مختلف قسم كے دعوے كرتےہیں تاكہ لوگ ان كے سامنے سر تسليم خم كریں اور ان كو شہرت مل سكے ۔
انہوں نے اس بات پر تاكيد كرتے ہوئے كہ اگر ہر جاہ طلب شخص كا اسی طرح احترام اور تعظيم كی جائے تو وہ غرور و تكبر میں مبتلا ہو جائے گا خيال ظاہر كيا ہے كہ اب تصور كریں كہ اگر لوگ ايك انسان كی دست بوسی اور تعظيم كے لیے ايك دوسرے پر سبقت كرنے كی كوشش كریں يا صف بنا كر اپنی باری كا انتظار كریں تو یہ عمل اس شخص كے لیے كس قسم كے احساسات كا باعث بنے گا ؟ يقينا وہ لذت اور خوشی محسوس كرے گا لہذا شہرت اسلیے ان افراد كا ہدف بنتی ہے كيونكہ یہ ان لوگوں كے لیے متعدد لذتوں اور خوشيوں كا سامان مہیا کرتی ہے ۔
انہوں نے اس بات كی جانب اشارہ كرتے ہوئے كہ ان افراد كا تيسرا ہدف پيسہ اور دولت كمانا ہے كہا ہے كہ ان افراد كا تيسرا ہدف فروان پيسہ اور دولت كمانا ہے ۔ خلاصہ یہ كہ شہوت ، شھرت اور ثروت پر مشتمل مثلث عرفان کاذب کے دعويداروں كی اميدوں كا محور ہے ۔ البتہ اس بات كی تصديق كہ تمام جھوٹے دعويدار ان تين ہداف كے درپے ہیں ايك مشكل كام ہے ليكن یہ بات قابل انكار نہیں ہے كہ مسئلہ صرف كم يا زيادو ہونے كا ہے يعنی ہو سكتاہے كہ كچھ افراد كے لیے شہوت بنيادی ہدف ہو اور دوسروں كے لیے شھرت كا حصول يا ثروت اہميت ركھتی ہو۔
انہوں نے آيات اور احاديث اہل بيت﴿ع﴾ كا ذكر كرتے ہوئے كہاہے كہ سنت ايك قانون ہے اور ہر قانون كلی ہوتا ہے يعنی قانون كے تحت ايك حادثے كا وقوع پزير ہونا دوسرے حادثے كا بھی باعث بنے گا ۔ دينی اصطلاحات میں اس قسم کے بيان كو "سنت" كا نام ديا جاتا ہے ۔ آيات اور روايات سے ايك "سنت الہی" کا استنباط ہو تا ہے وہ یہ كہ اللہ تعالی نے اس كائنات كو خلق كيا ہے ليكن خلق كرنے كے بعداسے اس كے حال پر نہیں چھوڑا يعنی خدا اس كائنات كا خالق بھی اور چلانے والا بھی ۔ لفظ خالق اللہ تعالی كے اسماء حسنی میں سے ہے اور اسی طرح قرآن میں لفط رب كا استعمال بھی كيا گيا ہے ۔
انہوں نے اس بات كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہ اللہ تبارك وتعالی كی جانب سے اس كائنات كی تدبير اور اس كے طريقوں سے متعلق بحث ، قرآن كی جالب ترين مباحث میں سے ہے ۔ قرآن میں اللہ كو "رب" كے عنوان كے علاوہ كائنات كے مدبر اور مدير كےطور پر بھی ذكر كيا گيا ہے اور اس كے علاوہ ذات باری تعالی كی جانب سے كائنات كی تدبیر كے طريقوں كا بھی ذكر كی گيا ہے ۔
انہوں نے مزيد كہا ہے كہ اللہ نے اس كائنات كو خلق كيا ہے اور اس پر نظام تکوینی کے قوانین كو حاكم كيا ہے جن میں سے بعض قوانين كو مختلف علوم میں استعمال كيا جاتا ہے مثلا اگر دھات كو حرارت میں ركھا جائے تو پگھل جائے گی یہ ايك قانون ہے اور اس قانوں كا خالق وہی ہے جس نے اس كائنات كو خلق كيا ہے ۔ اور آج علوم طبيعت سے تعلق ركھنے والے محققين كا كام طبيعت پر حاكم ان قوانين كو كشف كرنا ہے ۔ قوانين كی دوسری قسم انسانوں كے سماجی تعلقات پر نظارت كرنے والے قوانين پر مشتمل ہے ان قوانين كو قرآن كے سماجی قوانين كہا جاتا ہے ۔ قرآن میں علمی قوانين كا ذكر تقريبا سات سو يا و سو آيات كے ذيل میں كيا گيا ہے ۔
انہوں نے قرآن میں مذكور سما جی قوانين كی جانب اشارہ كرتے ہوئے كہا : قرآن میں انسانوں كے سماجی يا اقتصادی روابط پر نظارت كرنے والے قوانين كو بھی بيان كيا گيا ہے جن كو قرآن كی "سماجی سنتوں" كا نام ديا جاتا ہے ۔ مثال كے طور پر قرآن كی اس ﴿آية إِنَّ اللّهَ لاَ یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى یُغَیِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ؛ بے شك اللہ كسی قوم كی حالت تبديل نہیں كرتا یہاں تك كہ وہ خود اپنی حالت كو تبديل كریں﴾ كو ان قوانين كے ذيل میں ذكر كياجا سكتا ہے ۔ آيت كا مفھوم كچھ اس طرح سے ہے كہ جب تك انسان خود كو تبديل نہیں كرے گا اس كی زندگی اور جو كچھ اس كی زندگی سے مربوط ہے كبھی تبديل نہیں ہو گا ۔ پس اس آيت سے ہم ايك كلی قانون استنباط كر سكتے ہیں كہ جب تك ايك قوم ،گروہ ، يا فرد اپنے اندر تبديلی نہیں لائے گا اللہ تبارك و تعالی بھی اپنی روش كو تبديل نہیں كرے گا لہذا یہ قرآںی اور دينی شعار ہے كہ اپنے آپ كو تبديل كرو تاكہ اللہ بھی تم سے مربوط اپنی روش كو تبديل كرے ۔
انہوں نے قوانين كی تيسری قسم كی جانب اشارہ كرتے ہوئے كہا ہے كہ ان دو قوانين كے علاوہ الہی قوانين كی تيسری قسم سنن سلوكی بھی ہے جس كی طرف توجہ نا ہونے كے برابر ہے ۔ قرآن میں ايسی بہت سی آيات ہیں جو سلوك، ايمان اور اخلاق سے متعلق قواعد و قوانين كہ بيان كرتی ہیں۔ لہذا اگر كوئی شخص اللہ كی جانب جانب سچے دل سے بڑھنا چاہتاہے تواسے قوانين سلوكی پر عمل كرنا ہوگا ۔
انہوں نے كہا ہے كہ دين قرب كے درپے ہے اور قرب سے مراد سلوك صعودی ہے آيت میں ہے كہ «إِلَیْهِ یَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّیِّبُ » يعنی وہ انسان خدا كے ساتھ ارتباط میں اور اس كا قرب چاہتاہے اسے بلندی كی جانب جانا چاہيئے ۔ قرآن میں تقريبا ١۰۰ آيات عرفانی اور سلوكی قوانين پر مشتمل ہیں ۔
استاد فعالی نے كہا : مثال كے طور پر قرآن كی آيت﴿ وَمَن یَتَّقِ اللَّهَ یَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا﴾ میں تقوی اور مخرج كے درميان براہ راست رابطے كا ذكر كيا گيا ہے ۔ اور مخرج سے مراد یہاں وہی انسان كی باطنی روشنی ہے جس كے ذريعے انسان صحيح وغلط اور حق و باطل كے درميان تشخيص دے سكتا ہے ۔ اور تقویٰ كا معياربھی یہی ہے كہ انسان شك كی حالت میں رہے ۔
انہوں واضح كيا : قرآن اس قسم كی بينش كو تقوا كا نام ديتا ہے ، تقوا سے مراد كو خود كو محدود كرنا ہے ليكن یہ محدوديت كبھی تہ با ہدف ہوتی ہے اور كبھی بدون ہدف ، ہدفمند محدوديت تقوا سے متعلق سنت الہی پر عمل كرنے سے حاصل ہوتی ہے ۔ اس كی سادہ مثال اپنی نگاہ كو كنٹرول میں ركھنا ہے یہ كنٹرول اس چيز كا باعث بنتا ہے كہ اللہ اس كے بدلے انسان كوچشم بصيرت عطا كرتا ہے كہ انسان اس كے ذريعے ايسی چيزوں كا مشاہدہ كرتا ہے كہ دوسرا كوئی اس كو ديكھنے كی صلاحيت نہیں ركھتا ۔
انہوں نے كہا ہے كہ جھوٹے عرفان كے دعويدار شھوت ، شھرت اور ثروت پر مشتمل مثلث كے درپے ہیں ليكن خدا كی حتمی سنتوں میں سے ايك یہ ہے كہ جو كوئی بھی اس دنيا میں نفس كو خدا پر ترجيح ديتا ہے اور اپنی نفس پرستی پر خدا كا نام لگاتا ہے يعنی آسمان ، حقيقت اور خدا كو وسيلہ بنا كر اپنی نفسانی خواہشات كی تكميل كرتا ہے خدا بھی اس كو اس دنيا میں لوگوں كے سامنے اور بالخصوص جن سے اس نے استفادہ كيا ذليل و خوار كرے گا ۔
917261