خواتین کے اجتماعات عرفان كاذب کی ترویج کے مہم ترین اماکن ہیں

IQNA

خواتین کے اجتماعات عرفان كاذب کی ترویج کے مہم ترین اماکن ہیں

فكر گروپ: حوزہ علمیہ اور یونیورسٹی کے استاد حجۃ الاسلام و المسلین فعالی نے کہا ہے کہ نو ظہور روحانی تحريكوں كے نفوذ كی مہم ترين جگہ خواتين كے اجتماعات ہیں ؛ ايران میں ايك مركز كی جانب سے جمع كیے گئے اعداد و شمار كے مطابق اس سال محرم كے پہلے عشرے میں منعقد ہونے والی تقريبا ۷۰۰ خواتین کی مجالس كا پتہ چلا ہے جن میں نو ظہور عرفان سے متعلق گفتگو كی گئی ہے ۔
ايران كی قرآںی خبر رساں ايجنسی﴿ايكنا﴾ كی رپورٹ كے مطابق حوزہ علمیہ اور يونيورسٹی كے استاد اور نئی جنم لينے والی روحانی تحريكوں كے حوالے سے ۹ كتابوں كے مصنف حجت الاسلام و المسلمين محمد تقی فعالی نے طلباء كی قرآنی سرگرميوں كے ملكی ادارے میں منعقد ہونے والی "جھوٹے عرفان كی آفات سے آشنائی" كے موضوع پر نشست میں اس نظریے كا تنقيدی جائزہ ليتے ہوئے خطاب كيا ہے ۔
حجۃ الاسلام والمسلين فعالی نے عرفان كاذب كی اقسام بيان كرتے ہوئے كہا ہے كہ جھوٹے دعويداروں كو دو دستوں میں تقسيم كيا جا سكتا ہے ، ایک دستہ ایسے نااہل افراد پر مشتمل ہے جو اپنے مفادات كی تكميل كے لیےحقائق پر مبنی مطالب سے سوء استفادہ كرتے ہیں ۔ دوسرا دستے میں ايسے نالائق افراد شامل ہیں جو منحرف ، بے بنياد اور غیر معتبر مطالب سے استفادہ كرتے ہیں ۔
انہوں نے طالع شناسی كی جانب اشارہ كرتے ہوئے كہا ہے كہ آج ملك میں طالع شناسی كی تقريبا دس اقسام كی وسيع پيمانے پر تبليغ و ترويج جاری ہے ، یہ اقسام مندرجہ ذيل ہیں : چينی طالع شناسی ، خورشيدی طالع شناسی ، ايرانی طالع شناسی ، قديمی طالع شناسی ، مصری طالع شناسی ، بازنطينی طالع شناسی، مغربی طالع شناسی اور شرقی طالع شناسی ۔ ايران میں كچھ سال پہلے طالع شناسی كے حوالے سے چند جلدوں پر مشتمل لغت كی اشاعت بھی كی گئی ہے ۔
انہوں نے طالع شناسی میں استعمال ہونے والے بے بنياد اور غير موثق رموز كی جانب اشارہ كرتے ہوئے كہا : طالع شناسی كی كتابوں میں ذكر ہونے والے بيشتر مطالب جيسے سال پيدائش كی خصوصيات وغيرہ كی بنياد اندازہ گيری پر ركھی گئی ہے جو ہر قسم كی قطعیت اور حقيقت سے خالی ہونے كی بنا پر غير معتبر ہیں ۔ اس بات پر بھی توجہ رکھنی چاہیئے کہ عرفان کاذب اور جھوٹے دعووں کے لیے بہت زیادہ جرٲت درکار ہوتی ہے لہذا ایسی جسارتیں کرنا عام اور سادہ لوگوں كے بس كا كام نہیں ہے ۔
انہوں نے كہا ہے كہ كچھ سال پہلے ايك خاتون نے امام زمانہ ﴿عج﴾ كی بيوی ہونے كا دعوی كرتے ہوئے کہا ہے كہ وہ ہر رات امام ﴿عج﴾ كے محضر میں حاضر ہوتی ہے اسی لیے جس كسی كو بھی امام زمانہ ﴿عج﴾ سے كچھ سوال كرنا ہو تو اپنے سوالات کو زبانی يا کتابی صورت میں پيش كرے اور مجھ سے جواب حاصل كرلے ۔
استاد فعالی نے اس بات كی جانب اشارہ كرتے ہوئے كہ اس قسم كے غلط اور منحرف افكار کے ساتھ ساتھ نئی روحانی تحريكوں اور عرفان كاذب كے نفوذ كی مہم ترين جگہ خواتین کے اجتماعات ہیں خيال ظاہر كيا ہے كہ ايران سے نكلنے والے اخبار ، روزنامہ "جمہوری اسلامی" كی جانب سے اس سال محرم كے پہلے عشرے میں منعقد ہونے والی ۷۰۰ خواتین کی مجالس كے حوالے سے پيش كیے گئے اعداد و شمار اس بات كی نشان دہی كرتے ہیں كہ ان مجالس میں نئی روحانی تحريكوں اور نو ظہور عرفان سے متعلق گفتگو كی جاتی رہی ہے ۔ جالب ترين نكتہ یہ ہے رپورٹ كے مطابق اکثر ان مجالس میں كوئی خاتون اپنے ارد گرد لوگوں كی ايك بڑی تعداد كو جمع كر كے اس قسم كے ناروا افكار كی ترويج كرتی تھی ۔
انہوں نے اس بيان كے ساتھ كہ ان افراد كا دوسرا ہدف نو جوان اور جوان ہیں خيال ظاہر كيا ہے كہ ان افراد كا دوسرا اصلی ہدف نوجوان اور جوان ہیں جو خاص وجوہات اوراسباب كی بنا پران منحرف افراد کی جانب سے مورد ہدف قرار پاتے ہیں البتہ بڑی عمر كے مرد حضرات بھی ان كے نشانے پر ہیں ۔
انہوں نے امام زمان﴿عج﴾ كے ساتھ ارتباط كے جھوٹے دعووں كی مختلف صورتوں كو بيان كرتے ہوئے كہا ہے كہ ان میں سے ایک تو اس خاتون كی جانب سے امام زمانہ﴿ع﴾ كی بيوی ہونے كے دعو یے پر مشتمل تھی ، دوسری صورت یہ كہ كچھ افراد امام ﴿عج﴾ كا بیٹا ہونے كا دعوی كرتے ہیں جبكہ ان میں سے بعض امام كے ساتھ خاص ارتباط كا اس طرح دعوی كرتے ہیں كہ جب بھی چاہیں امام ﴿عج﴾ كو اپنے پاس ديكھ سكتے ہیں جوايك بہت بڑی جسارت کے مترادف ہے يعنی وہ امام ﴿عج﴾ كے پاس نہیں جاتے بلكہ امام ﴿عج﴾ ان كے پاس آتے ہیں۔
انہوں نے خدائی كے جھوٹے دعويداروں میں سے ايك كی جانب اشارہ كرتے ہوئے كہا : خدائی كے جھوٹے دعويداروں میں سے ايك كا نام "غرابات" ہے جس كا تعلق ملك كے جنوبی شہر سے ہے وہ ايك ان پڑھ شخص تھا جس نے كچھ عرصے بعد اپنے اندر كسی قدرت كا احساس كيا اور اس کے ذریعے لوگوں میں مشہور ہوگيا ليكن جب اس كا كام رونق پكڑ گيا تو اس نے خود كو پيغمبر کے عنوان سے معرفی کیا اور آخر كار خدائی كا دعوی كر بیٹھا ۔ لہذا ہمیشہ ان جيسے افراد اور ان كے جھوٹے دعووں سے ہوشيار رہنا چاہيئے ۔
917198