ايران كی قرآںی خبر رساں ايجنسی﴿ايكنا﴾ كی رپورٹ كے مطابق حوزہ علمیہ اور يونيورسٹی كے استاد اور نئی جنم لينے والی روحانی تحريكوں كے حوالے سے ۹ كتابوں كے مصنف حجت الاسلام و المسلمين محمد تقی فعالی نے طلباء كی قرآنی سرگرميوں كے ملكی ادارے میں منعقد ہونے والی "جھوٹے عرفان كی آفات سے آشنائی" كے موضوع پر دوسری نشست میں اس نظریے كا تنقيدی جائزہ ليتے ہوئے خطاب كيا ہے ۔
استاد فعالی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے كہ آج ايران میں چار قسم کی عرفانی تحريكیں موجود ہیں خيال ظاہر كيا ہے كہ پہلی قسم خالص قرآنی اور شيعہ عرفانی تحريكوں پر مشتمل ہے جن كا منبع و ماخذ قرآن كريم اور معصومين(ع) سے منقول احاديث اور دعائیں ہیں ۔
انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ یہ عرفانی تحريكیں ممتاز رہنماؤں اور علماء پر مشتمل ہیں کہا ہے کہ خالص اسلامی عرفان تین قسم کی خصوصیات رکھتا ہے ؛ خدا محوری ، معاد محوری اور وحيانی شريعت كی ہمراہی ۔ جو عرفان بھی ان تين خصوصيات سے خالی ہو گا عرفان كاذب يا سيكيولر عرفان کہلائے گا، جس سے متعلق گفتگو پہلی نشست میں گزر چكی ہے ۔
انہوں نے اس بیان کے ساتھ کہ ملكی سطح پر فعال دوسری عرفانی تحريك جھوٹے دعويداروں سے منسوب ہے كہا ہے كہ قابل افسوس بات یہ ہے كہ گزشتہ دو دہائيوں كے دوران جس منحرف عرفان كی ابتدا بڑے شہروں سے ہوئی تھی آخر كار دیہاتوں تك جا پہنچا ہے اور اس كے مروجين عجيب و غريب دعوے كرتے پھر رہے ہیں ۔
انہوں نے اس بات كی جانب اشارہ كرتے ہوئے كہ كبھی بعض افراد كے ذہنوں میں موجود شبہات اس بات كا موجب بنتے ہیں كہ وہ ان جھوٹے دعويداروں كے جال میں پھنس جائیں خيال ظاہر كيا ہے : مثال كے طور پر ممكن ہے کہ کچھ اہل مطالعہ حضرات كے زہنوں میں یہ خيال آئے كہ ہمارے بعض دينی رہنما بھی ايسے علوم كے ماہر تھےجن میں سے ساتویں صدی كے عالم دين خواجہ نصير الدين طوسی اور مرحوم شيخ بہائی كا نام قابل ذكر ہے ۔
حجة الاسلام فعالی نے كہا : اس بات كا ذكر کرنا لازمی ہے كہ مجتھدين كی جانب سے مختلف دينی و علمی مسائل کی غرض سے اجنبی علوم كا استعمال ايك ديگر بحث ہے كيونكہ كبھی سحر اور جادو كی تعليم كسی مجتھد كے لیے جائز بلكہ واجب ہوتی ہے۔ ليكن جھوٹے دعويداروں كی جانب سے پيش كیے جانے والے مسائل يا تو ان علوم سے عدم آشنائی كی وجہ سے جھوٹ پر مبنی ہیں يا ان كا ہدف صرف درآمد اور شخصی مفادات كی تكميل كرنا ہے ۔
انہوں نے پيشن گوئی يا ذہن پڑھنے كے ہنر كی جانب اشارہ كرتے ہوئے كہا : اس بات كا امكان ہے كہ اللہ تعالی بعض افراد كو خاص قدرتوں سے نوازے مثلا ہو سکتاہے کہ كوئی شخص كسی كے قيافے كو ديكھ كر اس كے ذہن سے گزرنے والے خيالات كو پڑھنے كی صلاحيت ركھتا ہو البتہ افسوس اس بات کا ہے كہ اس قسم كے حقيقت ہر منبی امور آج نا اہل افراد كے ہاتوں میں ہیں جو ان سے سوء استفادہ كر رہے ہیں ۔ ايسے با صلاحیت افراد كا تعلق صرف دين اسلام سے نہیں ہے بلكہ یہودی اور مسيحی یہاں تك كہ بے دين افراد بھی ايسی صلاحيتوں كے مالك ہو سكتے ہیں ۔
انہوں نے مزيد كہا ہے كہ ۲۰ ویں صدی كے اوائل سے مربوط "وولف ميسنگ " نامی شخص جس كا چرچل ، اسٹالين اور گاندھی جيسے افراد نے سخت امتحان لينے كے بعد اس بات كا اعتراف كيا ہے كہ یہ شخص حیرت انگیز قدرت كا حامل ہے درحالنكہ وولف ميسنگ مسيحی يا بے دين تھا ۔
انہوں نے اس بات پر تاكيد كرتے ہوئے كہ ہر چند ان صلاحيتوں كے وجود پر شك نہیں كيا جا سكتا ليكن اس بات پر توجہ ركھنی چاہيئے کہ بہت سے ايسے افراد جو اس قسم کی قدرتوں كا دعوی كرتے ہیں ان میں سے اکثر کے دعوے حقيقت سے خالی اور بہودہ ہوتے ہیں ۔ خلاصہ یہ كہ روحانی قدرتوں كی دو قسمیں ہیں ؛ اكثر دعوی كرنے والے افراد ان قدرتوں كے حامل نہیں ہوتے اور جو كم تعداد میں ان قدرتوں كے مالك ہوتے ہیں وہ ان قدرتوں سے سوء استفادہ كرتے ہیں اور اپنے مفادت كے لیے ان كو استعمال كرتے ہیں۔
انہوں نے "سائیں بابا" كے عرفان كی جانب اشارہ كرتے ہوئے كہا ہے كہ آہندہ نشستوں میں اس عرفان اور اس کی قدرتوں كا مفصل تحليلی جائزہ ليا جائے گا ، كيونكہ عرفان کی یہ قسم بھی روحانی قدرتوں اور بڑے معجزات پر مشتمل ہونے كے حوالے سے مشہور ہے ۔ ان نشستوں میں ذكر كيا جائے گا كہ ہندوستان ، برازيل اور دنيا بھر كے مختلف خطوں میں ان قدرتوں كے بيشتر دعويدار جھوٹے ہیں۔
916753