ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی﴿ايكنا﴾ كی رپورٹ كے مطابق حوزہ علمیہ اور يونيورسٹی كے استاد اور نئی جنم لينے والی روحانی تحريكوں كے حوالے سے ۹ كتابوں كے مصنف حجت الاسلام و المسلمين محمد تقی فعالی نے طلباء كی قرآنی سرگرميوں كے ملكی ادارے میں منعقد ہونے والی "جھوٹے عرفان كی آفات سے آشنائی" كے موضوع پر نشست میں اس نظریے كا تنقيدی جائزہ ليتے ہوئے خطاب كيا ہے ۔
استاد فعالی نے اس بات كی جانب اشارہ كرتے ہوئے كہ خالص اسلامی عرفان كی پہلی دو قسمیں اس عرفان كے منابع اور رہنماؤں پر مشتمل ہیں كہا ہے كہ اسلامی عرفان کے باب میں تیسرا مہم نکتہ اس عرفان كی خصوصيات كا ذكر كرنا ہے ۔ خالص عرفان تقريبا ١۰ خصوصيات پر مشتمل ہے سب سے پہلی خصوصيت خالص عرفان كا خدا محور ہونا ہے يعنی اس عرفان كے عقيدے كی رو سے انسان كا اس دنيا میں آنا ايك ہدف كے حصول كی خاطر ہے اور وہ ہدف مبداء ہستی كے ساتھ ارتباط برقرار كرنا ہے لہذا انسان كو اس ہدف كے حصول كے لیے مسلسل كوشش كرنی چاہيئے ۔
انہوں نے مزيد كہا ہے كہ دينی اصطلاح میں اس كوشش كا نام تقوا ، عمل صالح يا ايمانی عمل ہے ۔ تقوا كی وضاحت میں یہ كہا جا سكتا ہے كہ انسان كو ايسا عمل انجام دينا چاہيئے جس كے ذريعے اللہ تبارك وتعالی اس كے ساتھ دوستی كرلے اور اسکا ہم نشین بن جائے جيسا كہ دعاؤں میں ہم اللہ تبارك و تعالی كو "يا جليس الذاكرين ؛ اے اپنا ذكر كرنے والوں كے ساتھ بیٹھنے والے" كے عنوان سے ياد كرتے ہیں ۔
انہوں واضح كيا ہے كہ خالص عرفان وہ ہے جو انسان كے ہاتھ كو اللہ كے ہاتھ میں دے ، انسان كے مرتبے كو آسمان كی بلنديوں تك پہنچانے كے ساتھ ساتھ انسان كی باطنی طہارت كے درپے ہو اور ہر لحظے انسان كو خدا كے قريب تر کرے ، اس بنياد پر خالص عرفان كی پہلی خصوصيت یہ ہے كہ انسان كو فرش سے اٹھا کر عرش تك لے جائے ،«إِلَیْهِ یَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّیِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُهُ؛ پاكيزہ كلمات اس كی جانب بلند ہوتے ہیں اور وہ عمل صالح كو رفعت عطا كرتا ہے »(فاطر/10) خالص عرفان انسان كو مقام عصمت تك پہنچاتا ہے يعنی انسان اس مقام پر فائز ہو جاتا ہے كہ ہر قسم كی غلطيوں اور گناہوں سے گريز كرنے لگتا ہے ۔ خدا كے ساتھ دوستی كو دينی تعبير میں ﴿قرب الی اللہ ﴾ كہتے ہیں
انہوں نے اس بات پر تاكيد كرتے ہوئے كہ یہ قرب دو طرح كا ہے ؛ انسان كا خدا كے قريب ہونا اور خدا كا انسان كے قريب ہونا خيال ظاہر كيا ہے كہ قرآنی آيات میں قرب الہی كی ہر دوقسموں خدا كا اپنے ما سوا كے قريب ہونا اور بندوں سميت تمام مخلوقات كا اپنے پروردگاركے قريب ہونےكا ذكرملتا ہے ۔ ان آيات میں سے «وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَیْهِ مِنكُمْ وَلَكِن لَّا تُبْصِرُونَ »(واقعه/85) و يا آيه «وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ »(ق/16)، كو مثال كے طور پر ذكر كيا جا سكتا ہے ۔ ان كے علاہ آيت «وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِی عَنِّی فَإِنِّی قَرِيبٌ؛ جب بھی ميرے بندے ميرے بارے میں سوال كریں تو میں قريب ہوں » بھی اسی قرب پر دلالت كر رہی ہے ۔ درحقيقت اس آيت میں لفط"قل" كا ذكر ہونا چاہيئے تھا ليكن مفسرين كے مطابق انسان كے ساتھ خدا كے قرب كی شدت اس لفظ سے صرف نظر کا باعث بنی ہے ۔
انہوں نے اس بيان كے ساتھ كہ خالص عرفان كی دوسری خصوصيت اس كا شريعت وحيانی كی بنياد پر قائم ہونا ہے خيال ظاہركيا ہے كہ انسان كے روحانی علاج كے نسخوں كی دو قسمیں ہیں ايك وہ جو وحی الہی كا نتيجہ ہیں جس كو وحيانی شريعت كہتے ہیں اور دوسری قسم انسانی نسخوں پر مشتمل ہے يقيننا انسان كے ذہنی ،فكری اور روحانی مشكلات كے علاج كے لیے خالق كا عطا كردہ نسخہ زيادہ مفيد ہے ۔
انہوں واضح كيا ہے كہ تقريبا پانچویں صدی قبل از ميلاد يعنی ۲۵۰۰ سال قبل "بدھ" نامی ايك شخص نے ہندوستان كے گرم اور جلا دينے والے بيابانوں میں ١۳ سال مسلسل رياضت كے ذريعے باطنی روشنی ، ضمير كی بيداری اور نروان نامی قوت تك رسائی حاصل كی تھی ۔ اس كے بعد اس نے تقريبا ۲۵ سال ايسے پيچيدہ روحانی علاجوں كی ترويج و تبليغ میں صرف كیے جو اس كے دينی تجربات كے ماحاصل شمار ہوتے تھے۔
استاد فعالی نے كہا ہے كہ آج دنيا كے مہم ترين بے دين روحانی مكاتب فكر میں سے ايك "بدھ مت" كی روحانی تعليمات پر مشتمل مکتب فکر ہے ۔ ہمارے ملك میں بھی گزشتہ دو دہائيوں كے دوران مختلف عناوين كے تحت بدھ مت كے آئين كی ترويج و تبليغ كی جاتی رہی ہے ۔ جالب نكتہ یہ ہے كہ گزشتہ دو دہائيوں كے دوران بدھ مت سے متعلق شائع ہونے والی كتابوں كی تعداد امام خمينی اور شہيد مطہری كے مجموعی آثار كے برابر ہے ۔
انہوں نے اس بيان كے ساتھ كہ خالص عرفان كی تيسری خصوصيت اس كا ٲخروی دنيا پر اعتقاد ہے اظہار خیال کیا ہے كہ جو عرفان بھی ان تين خصوصيات سے خالی ہوگا سيكيولر عرفان كہلائے گا ۔ سيكيولرعرفان دو خصوصيات پر مشتمل ہے ايك اس كا خدا كے وجود سے خالی ہونا يعنی اس عرفان كا محور خدا كے بجائے انسان ہے ۔ انيسویں صدی عيسوی میں فرانس سے تعلق ركھنے والے فلسفی "آگست كانٹ" نے پہلی بار اس نظریے كو پيش كيا كہ آخر كب تك خدا كے فرضی وجود سے آس لگائے بیٹھے رہیں گے ۔
انہوں نے اس بات كی جانب اشارہ كرتے ہوئے كہ سيكيولر عرفان كی دوسری خصوصيت دنيا كو اصل ماننا ہے واضح كيا : اگرچہ سيكيولر عرفان میں خدا اور معاد كا ذكر ہوتا ہے ليكن بنيادی حيثيت انسان كو حاصل ہے يعنی خدا اور کائنات میں موجود ہر چیز انسان كی خدمت گزاری میں مصروف ہے ۔
حجة الاسلام و المسلين استاد فعالی نے آخر میں بيان كيا : اس قسم كے سيكيولرعرفان اس لیے پيش كیے جاتے ہیں تاكہ اس دنيا میں انسان اپنے آرام و سكون كے حصول كی خاطر مخلتف طريقوں كو كشف كر سكے ، اسی لیے خوش حال زندگی گزارنے ، دولت كمانے اوراس دنيا میں انسان كے سكون اور فلاح كے طريقوں پر مختلف كتابیں لكھی جاتی ہیں ۔
910887