ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ كے شعبہ " اسلامی ثقافت و روابط آرگنائزيشن " كی رپورٹ كے مطابق ، سوریہ كے شہر "لاذقیہ" كے اديب اور محقق "غسان صالح عبد اللہ" نے لاذقیہ میں امام خمينی ﴿رہ﴾ كی برسی كے موقع پر منعقدہ كانفرنس "امام خمينی ﴿رہ﴾ اور اسلامی بيداری" میں اس مطالب كو بيان كرتے ہوئے زور ديا ہے كہ اسلامی نظام رہبر اور عوام سے دو چیزوں کا تقاضا کررہا تھا اور وہ یہ كہ شاہ اور اسرائيل سے کسی قسم کا سروکار نہ رکھیں لہذا عوام اور رہبر بھی ملك كی تمام مشكلات كا حقيقی ذمہ دار انہی دو عناصر كو قرار ديتے رہے یہاں تك كہ انقلاب ايران حكيمانہ قيادت ، شہداء كی جانفشانی اور ثابت قدمی كے ساتھ كامياب وكامران ہوا ۔
انہوں نے مزيد كہا : آج جس چيز كا عرب دنیا میں مشاہدہ كيا جارہا ہے وہ سب استكبار اور صیہونيزم كے خلاف نعروں پر مشتمل انقلاب اسلامی ايران كی پالیسیوں کی توسيع ہے۔
1027468