ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی '' ايكنا'' كی رپورٹ كے مطابق 23 جون كو طلباء نے سكولوں میں پردہ پر پابندی كے خلاف احتجاجی جلسہ منعقد كيا جس میں كہا: سكولوں كے حكام مسلمان طلباء كو ان كے مذہبی كاموں میں آزاد ركھیں بلكہ انہیں اس كام میں ترغيب دیں۔
انہوں نے كہا: اگر سكولوں میں پردہ پر پابندی لگ جائے تو اس كا یہ مطلب نہیں ہے كہ اپنی مذہبی كاموں كو ختم كر ديا جائے بلكہ مذہبی كاموں كو اس سے زيادہ ہمت كے ساتھ انجام دينا چاہيئے۔
اسی طرح جزيرہ بالی كے سيكنڈری سكول كی طالبہ '' انيتا وردانی'' جو اپنے والد كے ساتھ اس احتجاجی جلسہ میں شريك تھی۔ گفتگو كرتے ہوئے كہا اگر طلباء اپنے والدين كے ساتھ پردہ پر پابندی كے خلاف احتجاج كر رہے ہیں ليكن سكولوں كے حكام اس پر توجہ نہیں دے رہے ہیں۔
1036641