رحمت و بركت سے لبريز حج كا موسم آپہنچا ہے اور ايك بار پھر سعادتمندوں كو اس نورانی وعدہ گاہ میں حاضر ہونے كا شرف حاصل ہوا ہے، تاكہ فيض الہی سے مستفيذ ہوجائیں۔ یہاں پر زمان و مكان، حج بجا لانے والے فرد فرد كو مادی اور معنوی كمال حاصل كرنے كی دعوت ديتا ہے۔ یہاں پر مسلمان مرد اور خواتين فلاح و نجات كے لیےخداوند متعال كی دعوت كو دل و جان سے لبيك كہتے ہیں۔ یہاں پر تمام لوگوں كو برادری ، يكجہتی اور پرھيز گاری كی مشق كرنے كا موقع فراہم ہوتا ہے ، یہ تعليم و تربيت كا كيمپ ہے، یہ امت اسلامیہ كی وحدت و عظمت اور كثرت كی نمائشگاہ ہے اور شيطان و طاغوت سے لڑنے كا ميدان كار زار ہے ، اس جگہ كو خداوند حكيم اور قدير نے ايك ايسی سرزمين قرار ديا ہے جہاں پر مومنين اپنے منافع كا مشاھدہ كریں گے۔ جب ہم عقل و عبرت كی آنكھیں كھولیں گے تو اس وعدہ الہی كا مشاھدہ كریں گے كہ جس نے ہماری انفرادی اورسماجی زندگی كو اپنے احاطہ میں قرار ديا ہے۔ حج كے شعائر دنيا و آخرت اور فرد و سماج كا سنگم ہیں۔ بے آرايش اور با شكوہ كعبہ، اس مستحكم اور ابدی محور كے گرد جسموں اور دلوں كا طواف، ايك ابتداء اور انتہاء كے درميان مسلسل سعی و كوشش ، ميدان محشر كے مانند عرفات و مشعر كی طرف انساںوں كے ٹھاٹھے مارتے ہوئے سمندر كا روانہ ہونا اور یہاں پر دلوں كو جلا و تازگی كا حاصل ہونا، شيطان كی علامت سے مقابلہ كرنے كے لیے لوگوں كا ہجوم اور سب لوگوں كا ايك ساتھ ان با معنی اور پر اسرار آداب و رسوم كو بجالانا، اس فريضہ الہی كی بے مثال اورمعنی خيز خصوصيتیں ہیں۔
یہ ايسے مراسم ہیں جو دلوں كو بھی ياد خدا سے ملاتے ہیں اور انسان كے دل كو تقوی اور ايمان كے نور سے بھی منور كرتے ہیں، اور انسان كو خود پسندی كے قيد سے رہائی بخشتے ہیں اور اسے امت اسلامیہ كے اجتماع میں ضم كرتے ہیں، اس كے علاوہ اس كی جان كو گناہ كے زہرآلود تيروں سے بچنے كے لئے پرہيزگاری كا لباس بھی زيب تن كرتے ہیں اور اس میں شياطين اور طاغوتوں كے خلاف نبرد آزما ہونے كا جذبہ بھی پيدا كرتے ہیں۔ یہاں پر حاجی امت مسلمہ كی بے پناہ وسعت و قدرت كا مشاھدہ كرتا ہے اور اسے اس امت كی ظرفيت اور طاقت كا اندازہ بھی معلوم ہوتا ہے اور اس میں مستقبل كی اميد پيدا ہوتی ہے اور اس راہ میں اپنا فريضہ ادا كرنے كی آمادگی كا احساس پيدا ہوتا ہےاور اگر اسے الہی مدد اور توفيق حاصل ہوجائے تو اپنے پيغمبر عظيم الشان صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دوبارہ بيعت اور دين اسلام سے پائيداری كے ساتھ عہد و پيمان كرتا ہے اور اپنی اور اپنی امت كی بہتری اور اسلام كی سر بلندی كے لیے اپنے اندر مستحكم عزم و ارادہ پيدا كرتا ہے۔
یہ دونوں چيزیں ، يعنی اصلاح خودی اور اصلاح امت دو ايسے فرائض ہیں كہ مسلمان ان سے كبھی بھی چشم پوشی نہیں كر سكتے ہیں۔ اس سلسلہ میں اہل تدبير كے لیے دينی فرائض پر سنجيدگی سے عمل كرنا اور عقل و بصيرت سے كام لينا مشكل نہیں ہے۔ اصلاح خودی، شيطانی خواہشوں سے مقابلہ كرنے اور گناہ سے بچنے كی كوششوں سے شروع ہوتی ہے۔ امت كی اصلاح دشمن اور اس كی سازشوں كو پہچاننے اور اس كے دشمنانہ حملوں اور ريشہ دوانيوں كو بے اثر كرنےكی مجاہدت اور اس كے بعد فرد فرد مسلمان اور مسلم اقوام كے درميان اتحاد و يكجہتی اور ان كے دلوں كو ايك دوسرے كے قريب لانے سے حاصل ہوتی ہے۔
آج، عالم اسلام كے اہم ترين مسائل میں ،جو امت اسلامیہ كی تقدير سے پيوست ہوچكے ہیں، شمالی افريقہ اور مشرق وسطی میں رونما ہونے والے انقلابی حوادث ہیں، جن كے نتيجہ میں اب تك كئی فاسد، امريكہ كے كٹھ پتلی اور صہيونزم كے حامی حكمران سرنگون ہوچكے ہیں اور اس طرح كی دوسری حكومتیں بھی متزلزل ہورہی ہیں، اگر مسلمان اس عظيم موقع كو كھودیں اور اس سے ملت اسلامیہ كی فلاح و بہبود كے لیے استفادہ نہ كریں، تو وہ ايك خسران عظيم ہوگا۔ اس وقت، جارح اور مداخلت كرنے والی سامراجی طاقتیں ان عظيم اسلامی تحريكوں كو منحرف كرنے كی سرتوڑ كوششیں كررہی ہیں۔
ان عظيم انقلابوں میں ، مسلمان مرد اور خواتين، ان مطلق العنان حكمرانوں اور امريكی تسلط كے خلاف اٹھ كھڑے ہوئے ہیں، جنہوں نے مسلمان قوموں كو ذليل كرنے كےلیے ظالم صہيونی حكمرانوں كے ساتھ گٹھ جوڑ كيا تھا۔ یہ مسلمان ، اس موت و حيات كے جہاد میں اپنی نجات ، اسلامی تعليمات اور اس كے حيات بخش قدروں میں جانتے ہیں اور انہوں نے اس كا كھلم كھلا اعلان بھی كيا ہے۔ انہوں نے مظلوم فلسطينی قوم كے دفاع اور غاصب صہيونی حكومت سے مقابلہ كو اپنے مطالبات كے لیے سرمشق قرار ديا ہے اور انہوں نے مسلمانوں كی طرف دوستی كا ہاتھ بڑھا كر امت مسلمہ كے اتحاد و اتفاق كا مطالبہ كيا ہے ۔
یہ ان ممالك میں عوامی انقلابوں كے بنيادی اصول ہیں جن كے لئے حالیہ دو برسوں كے دوران علاقہ كے عوام ، اصلاح و حريت كے پرچم كو بلند كركے جان كی بازی لگا كر، انقلاب كے لیے ميدان میں كود پڑے ہیں اور یہی اصول امت مسلمہ كی اصلاح كی بنادوں كو مستحكم كرسكتے ہیں۔ ان بنيادی اصولوں پر استقامت كرنا ان ممالك میں عوامی انقلابوں كو كاميابی سے ہمكنار كرنے كی ضروری شرط ہے۔
دشمن ان ہی اصولوں كی بنيادوں كو متزلزل كرنے كی كوشش میں لگا ہوا ہے ۔ امريكہ ، نیٹو ، اور صہيونزم كے فاسد عوامل مسلمانوں كی بعض غفلتوں اور سطحی سوچ سے ناجائز فائدہ حاصل كرتے ہوئے مسلمان نوجواںوں كی ان طوفانی تحريكوں كے رخ كو موڑ كر اسلام كے نام پر انھیں ايك دوسرے كے خون كے پياسے بنانا چاھتے ہیں اور استعمار اور صیہونزم كے خلاف جہاد كو عالم اسلام كی گلی كوچوں میں دہشت گردی اور تشدد میں تبديل كركے مسلمانوں كے ہاتھوں مسلمانوں كا خون بہانا چاہتے ہیں تا كہ اس طرح اسلام كے دشمن آسانی كے ساتھ اسلام اور مجاہدين اسلام كے چہرے كو مسخ كركے اپنی نجات كی راہ ہموار كرسكیں۔
اسلام كے دشمن، اسلام اور اسلامی اقدار كو مٹانے میں ناكام اور نا اميد ہونے كے بعد اب اسلامی فرقوں كے درميان فتنہ انگيزی اور نفرت پھيلانے كے در پے ہیں اور اہل سنت میں شيعوں كا خوف و ہراس اور شيعوں میں سنيوں كا خوف و ہراس پھيلانے كی ريشہ دوانيوں سے امت اسلامیہ كے اتحاد و اتفاق كی راہ میں ركاوٹیں ڈال رہے ہیں۔
اسلام دشمن،سامراجی طاقتیں، مشرق وسطی میں اپنے كارندوں اور ايجنٹوں كی مدد سے شام میں بحران پيدا كررہے ہیں تا كہ مسلم اقوام كے ذھنوں كو ان كے ملك كے اہم مسائل اور ان كو در پيش خطرات سے منحرف كركے ان كی توجہ كو شام میں ان ہی دشمنوں كی عمدا پيدا كی گئی خونی جھڑپوں كی طرف مشغول كریں۔ شام كی داخلی جنگ اور مسلمان نوجوانوں كا ايك دوسرے كو قتل كرنا ، امريكہ ، صہيونزم اور ان كی فرمانبردار حكومتوں كے ذريعہ شروع كيا گيا ہے اور اس آگ كو مزيد شعلہ ور كيا جا رہا ہے ، كون اس بات كو تسليم كرسكتا ہے كہ مصر ، ٹيونس ، اور ليبيا كی ڈكٹیٹر حكومتوں كی ہميشہ حمايت كرنے والے آج شام میں جمہوريت كا مطالبہ كرنے والے بن گئے ہیں؟۔ شام كا مسئلہ ايك ايسی حكومت سے انتقام لينے كا مسئلہ ہے كہ جو گزشتہ تين دہائيوں سے غاصب صیہونيوں كے مقابلے میں تن تنہا مقابلہ كررہی ہے اور فلسطين اور لبنان كے مزاحمت كرنے والے گروہوں كا دفاع كرتی رہی ہے۔
ہم شام كی ملت كے حامی ہیں اور اس ملك میں ہر قسم كی بيرونی مداخلت اور تشدد پھيلانے كے مخالف ہیں، اس ملك میں ہر قسم كی اصلاح خود وہاں كے عوام كے ذريعہ اور مكمل طور پر قومی طريقوں سے انجام پانی چاہيئے- اس وقت عالمی سامراجی طاقتیں علاقہ كی اپنی كٹھ پتلی حكومتوں كی مدد سے ايك ملك میں بحران پيدا كررہی ہیں اور اس بحران كے بہانہ سے اپنے لئے اس ملك میں ہر ظلم و بربريت كا مرتكب ہونا جائز سمجھتی ہیں، یہ ايك زبردست خطرہ ہے كہ اگر مشرق وسطی كی حكومتیں اس كی طرف توجہ نہ كریں تو انھیں اس كے بعد اسی سامراجی سازش كا شكار ہونے كے لیے تيار رہنا چاہئے۔
ميرے بھائيو اور بہنو ! موسم حج ، عالم اسلام كے اہم مسائل پر غور و فكر كرنے كی فرصت فراھم كرتا ہے -علاقہ كے انقلابوں كی تقدير اور ضرب كھائی ہوئی بڑی طاقتوں كی طرف سے ان انقلابوں كو منحرف كرنے كی كوششیں ان اہم مسائل میں شمار ہوتی ہیں۔ مسلماںوں كے درميان اختلاف پھيلانے كی مذموم سازشیں اور تازہ بيدار ہونے والے ممالك میں اسلامی جمہوریہ ايران كے بارے میں غلط فہمی اور بد ظنی پھيلانا، فلسطين كے مسئلہ اور مجاہدين كو منزوی كرنے كی كوششیں اور فلسطينی كے جہاد كو ختم كرنےكے لیے اسلام كے خلاف مغربی ممالك كا پروپگنڈا اور ان كی جانب سے پيغمبر اكرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم كی مقدس شان میں گستاخی كرنے والوں كی حمايت كرنا، اور مسلم ممالك میں داخلی جنگوں كے لئے راہ ہموار كرنا اور بعض مسلم ممالك كو ٹكڑَے ٹكڑے كرنا ، انقلابی حكومتوں اور قوموں كو مغربی سامراجی طاقتوں كی مخالفت كرنے سے ڈرانا، اور اس باطل خيال كی ترويج كرنا كہ مستقبل میں اںھیں ضرور ان اسلام دشمن سامراجی طاقتوں كے سامنے ہتھيار ڈالنا ہوگا اور اس قسم كے دوسرے مسائل ، ايسے اہم اور حياتی مسائل شمار ہوتے ہیں ، كہ حج كے دوران حجاج كرام كو ان كے بارے میں ہمدردی اور يكجہتی كے سائے میں مل بیٹھ كر غور و فكر كرنا چاھيئے۔
يقينا خداوند متعال كی ہدايت اور مدد، كوشش كرنے والے مومنوں كے لئے امن وسلامتی كی راہوں كی نشاندہی كرے گی
"و الذين جاھدوا فينا لنھدينھم سبلنا۔۔۔۔"
و السلام عليكم و رحمۃ و بركاتہ
سيد علی خامنہ ای
۵ ذی الحجۃ ۱۴۳۳، مطابق ، ۲۱ اكتوبر ۲۰۱۲ ء